فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

خمس کا مال سید کو بھی دے سکتے ہیں۔

فتویٰ نمبر 909202610018 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

خمس کا مال سید کو بھی دے سکتے ہیں۔

سوال
کیا خمس سادات اور عزیز واقارب کو دے سکتے ہیں؟
جواب
خمس کا حکم زکوٰۃ کے مال والا نہیں ہے ، لہٰذا، والدین ، اولاد، دوست احباب عزیزواقارب اور سادات میں سے جو بھی محتاج اور ضرورت مند ہوں ان کو خمس دے سکتےہیں ، اسی طرح اگر خود محتاج ہوتو خود بھی لے سکتا ہے۔ چنانچہ بدائع میں ہے: خمس الغنيمة في الكل لا يشترط في شيء منه شرائط الزكاة ويجوز دفعه إلى الوالدين، والمولودين الفقراء كما في الغنائم ويجوز للواجد أن يصرف إلى نفسه إذا كان محتاجا ولا تغنيه الأربعة الأخماس (بدائع الصنائع، كتاب الزكاة،فصل حكم المستخرج من الأرض،ج:2،ص:67) فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات