فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

لے پالک بیٹی کی وراثت اور دس مرلہ جائیداد کی شرعی تقسیم

فتویٰ نمبر 307202610208 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

لے پالک بیٹی کی وراثت اور دس مرلہ جائیداد کی شرعی تقسیم

سوال
میرے والد ’’ناصر‘‘کا انتقال ہوچکا ہے، ان کے ورثاء میں ہم دو بیٹے، چار بیٹیاں ہیں۔ والد مرحوم کے والدین پہلے ہی وفات پاگئے تھے۔ نیز متوفی کی بیوی یعنی ہماری والدہ ’’ناہید‘‘کا انتقال بعد میں ہوا، ان کے ورثاء بھی یہی ہیں (یعنی دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں) بعد ہماری ایک بہن خالدہ کا بھی کا انتقال ہوگیا) ۔خالدہ کا شوہربھی پہلے وفات پاگیا، اس (خالدہ) کے ورثاء بھی یہی دو بھائی اور تین بہنیں ہیں۔البتہ اس کی ایک لے پالک بیٹی ’’روبینہ‘‘ بھی ہے ۔ ہمارے والے کی جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟ خالدہ کی لے پالک بیٹی ’’روبینہ ‘‘ کو کتنا حصہ جائے گا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر ’’روبینہ ‘‘کے کاغذات میں اس کی والدہ کے طور پر ’’خالدہ‘‘ کا ہے تو اس کو بھی بیٹی والا حصہ جائے گا۔ درست مسئلہ کی رہنمائی فرمائیں۔
جواب
مسئلہ7 محمد ناصر(متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹی۔ بیٹی۔ بیٹی 2 ۔2۔ 1۔ 1 ۔1  بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد ناصر(مرحوم) کاکل ترکہ7(سات) حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ متوفی کی بیوہ ’’ناہید ‘‘اور بیٹی’’خالدہ ‘‘کے ورثاء بھی  متوفی کے  یہی دو بیٹے   تین بیٹیاں ہیں، اس لئے  بیوہ  اور بیٹی کو تخریج سے خارج دیا۔ باقی ’’روبینہ ‘‘ چونکہ ’’خالدہ‘‘کی لے پالک بیٹی ہے، اس لئے وہ ’’خالدہ‘‘ اور اس کے شوہر کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گی، اگر چہ سرکاری کاغذات میں یہ اس کی والدہ شمار ہوتی ہو ۔ لما في الفتاوى الهندية:  ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء  (کتاب الفرائض، 6 / 447 ط: دارالمعرفة)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض