فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

چھوٹی بستی میں کئی سالو ں سے قائم جمعہ کو باقی رکھنا

فتویٰ نمبر 910202610023 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

چھوٹی بستی میں کئی سالو ں سے قائم جمعہ کو باقی رکھنا

سوال
اگر کسی چھوٹی بستی (جہاں جمہ کے شرائط نہ پائے جاتے ہیں ) میں کئی سال سے جمعہ ہورہا ہو تو کیااس کو باقی رکھا جائے یا ختم کرنا جائز ہے؟
جواب
اگر کوئی بستی شرعی اعتبار سے قریہ کبیرہ یا شہر کے حکم میں نہیں اور وہاں جمعہ کی شرائط موجود نہیں تو فقہِ حنفی کے مطابق وہاں جمعہ قائم کرنا درست نہیں۔بلکہ وہاں جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز ادا کی جائے گی۔ کسی چھوٹی بستی میں کئی سال سے جمعہ پڑھا جارہا ہے، اس وجہ سے وہاں جمعہ کو باقی رکھنا درست نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی ضرورت کی نماز ان کے ذمّہ باقی رہتی ہے ۔ فتاویٰ شامی میں ہے: "وتقع فرضاً في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنها لاتجوز في الصغيرة". (ج: 1، ص: 537، ط: سعيد) وفيه أيضًا: "لاتجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب، كذا في المضمرات". (ج: 2، ص: 138، ط: سعيد) لہٰذا جب تک جمعہ کی شرائط پوری نہ ہوجائیں تو محض قدیم معمول کی وجہ سے جمعہ جاری رکھنا درست نہیں۔ فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات