فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

میت پر جنازہ پڑھنے میں سب سے زیادہ حق کس کو ہے؟

فتویٰ نمبر 611202610338 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

میت پر جنازہ پڑھنے میں سب سے زیادہ حق کس کو ہے؟

سوال
اس بارے میں شرعی رہنمائی درکار تھی کہ نماز جنازہ میں میت پر جنازہ پڑھنے کا زیادہ حق کس کو ہے، محلے کے امام کو یا ولی کو؟
جواب
نماز جنازہ میں امامت کا سب سے زیادہ حق مسلمانوں کے خلیفہ کو ہے، پھر قاضی کو، پھر امام جمعہ کو، پھر محلے کی مسجد کے امام کو، پھر ولی کو۔ محلے کی مسجد کے امام کو ولی پر مقدم کرنا مستحب ہے، جبکہ وہ امام ولی سے افضل ہو، ورنہ ولی ہی بہتر ہے۔  علامہ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: و الاولی بالاقامۃ فیھا السلطان، ثم القاضی، ثم امام الجمعۃ، ثم امام الحی، ثم الولی علی ترتیب الارث   ترجمہ: نماز جنازہ قائم کرنے کا زیادہ حقدار سلطان ہے، پھر قاضی، پھر امام جمعہ، پھر محلے کی مسجد کا امام، پھر وراثت کی ترتیب کے اعتبار سے ولی۔ (غنیۃ المستملی، فصل فی الجنائز، صفحہ 503، مطبوعہ: کوئٹہ) فقط واللہ اعلم
حوالہ: جنائز