شہر میں سیاسی وتاریخی شخصیت کا مجسمہ نصب کرنا
سوال
ایک شہر میں ایک معروف تاریخی شخصیت کا بُت (مجسمہ) نصب کیا گیا ہے اور اس بت کے پاؤں کے پاس جو ماربل کا کتبہ لگا ہوا ہے اس پر بسم اللہ شریف مکمل لکھی ہوئی ہے اور وہ بت کے پاؤں کے نیچے ہے جب بارش ہوتی ہے تو پانی بت کے جسم سے اور پاؤں سے ہوتا ہوا بسم اللہ شریف کے اوپر سے گزرتا ہے مہربانی فرما کر شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا اسلامی ملک میں اس طرح چوک پر بت کی تنصیب درست ہے اور کیا جس طرح نیچے کتبہ میں بسم اللہ لکھی ہوئی ہے اس میں اللہ کے نام کی توہین نہیں ہے ؟
جواب
مجسمہ سازی کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہے ،اس سلسلے میں وارد ہونے والی احادیث بھی متواتر ہیں اس لیےمجسمہ بنانا اور نصب کرنا شرعا حرام ہے ،پورے ملک میں بڑے شہروں کے چوکوں پر بے شمار مجسمات موجود ہیں ان سب کے خلاف اجتماعی آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔
باقی بارش کے پانی گرنے کی وجہ سے اگر اسے اہانت قرار دیا جائے تو پھر دینی مدارس کے اشتہارات گلی کوچوں میں چسپاں ہوتے ہیں اور ان پر اللہ اور رسول کے نام بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات آیات قرانیہ بھی ہوتی ہیں اور نیچے گندے پانی کی نالی بہہ رہی ہوتی ہے بارش کے وقت وہ پانی ان اسماء مبارکہ سے ہوتا ہوا نالی میں گزرتا ہے۔ پھر نالی کی بدبو والے مقامات پر اسماءِ مبارکہ آیات لگانے پر کیا حکم لگائیں گے۔
الحاصل اوّلاً: قانونی طریقے سے اس بت(مجسمہ) کو ہٹانے کی فکر کی جائے اور جب تک انتظامیہ اس بت کو یہاں سے نہیں ہٹاتی تب تک اس کتبہ کو بھی یہاں سے ہٹانے کی فکر کی جائے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت