فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مشینری کے ذریعے پہاڑوں کے ذرات سے سونا نکالنے پر خمس کا حکم

فتویٰ نمبر 909202610015 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مشینری کے ذریعے پہاڑوں کے ذرات سے سونا نکالنے پر خمس کا حکم

سوال
پہاڑ سے ریت نکالنے کے بعد پلاٹ میں چھان کر اس سے سونے کے ذرّات نکالنے کا کام کرتا ہے ، پہاڑ سے ریت نکالنے کی مشینری کا کرایہ تقریبا اڑھائی لاکھ روپے ہے، اور پلانٹ دریا سے 4500 فٹ دو رہے اور پلانٹ کے ذریعے ذرّات نکالنے پر بھی اخراجات آتے ہیں۔پوچھنا یہ ہے اخراجات نکالنے کے بعد بقیہ ر قم سے خمس دینا ہوگا ؟ 2۔ کیا خمس سادات اور عزیز واقارب کو دے سکتے ہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں زمین خواہ مملوک ہو یا غیر مملوک دونوں صورت میں خمس لازم ہے۔  چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے :  "وأما المعدن فالخارج منه في الأصل نوعان: مستجسد ومائع ۔۔۔۔فإن وجد في دار الإسلام في أرض غير مملوكة فالموجود مما يذوب بالإذابة وينطبع بالحلية يجب فيه الخمس سواء كان ذلك من الذهب، والفضة، أو غيرهما مما يذوب بالإذابة وسواء كان قليلا، أو كثيرا فأربعة أخماسه للواجد (بدائع الصنائع، كتاب الزكاة،فصل حكم المستخرج من الأرض،ج:2،ص:67) اسی طرح مبسوط سرخسی میں ہے: ۔  "اعلم أن المستخرج من المعادن أنواع ثلاثة منها جامد يذوب وينطبع كالذهب والفضة والحديد والرصاص والنحاس، ومنها جامد لا يذوب بالذوب كالجص والنورة والكحل والزرنيخ، ومنها مائع لا يجمد ۔۔ فأما الجامد الذي يذوب بالذوب ففيه الخمس عندنا." (كتاب الزكاة، باب المعادن وغيرها، ج: 2، ص: 211) دررالحکام میں ہے  : ۔  وباقيه لمالكها  أي الأرض إن ملكت وإلا أي وإن لم تملك فللواجد ۔۔۔ "إنما الخمس في الذهب الخالص وفي الفضة الخالصة والحديد والنحاس والرصاص۔ (درر شرح غرر باب في قسمة الغنائم اذا اصيبت من العدو، مدخل، ص:32) اور یہ خمس تمام ترخرچہ منہا کیے بغیر نکالا جائے گا۔  ولا يحسب لمن استخرج ذلك من نفقته عليه شيء۔(ایضاً) البتہ اگر آمدنی اور اخراجات برابر ہوجائیں تو پھر خمس لازم نہیں  ہوگا۔  وقد تكون النفقة تستغرق ذلك كله؛ فلا يجب إذن فيه خمس عليه۔ (درر شرح غرر باب في قسمة الغنائم اذا اصيبت من العدو، مدخل، ص:32) 2۔        خمس کا حکم زکوٰۃ کے مال والا نہیں ہے ، لہٰذا، والدین ، اولاد،  دوست احباب عزیزواقارب اور سادات میں سے جو بھی محتاج اور ضرورت مند ہوں ان کو خمس دے سکتےہیں ، اسی طرح اگر خود محتاج ہوتو خود بھی لے سکتا ہے۔              چنانچہ بدائع میں ہے:  خمس الغنيمة في الكل لا يشترط في شيء منه شرائط الزكاة ويجوز دفعه إلى الوالدين، والمولودين الفقراء كما في الغنائم ويجوز للواجد أن يصرف إلى نفسه إذا كان محتاجا ولا تغنيه الأربعة الأخماس (بدائع الصنائع، كتاب الزكاة،فصل حكم المستخرج من الأرض،ج:2،ص:67) فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات