سسر نے بہو کےحق مہر میں جو زمین لکھوائی وہ وراثت میں شمار نہ ہوگی
سوال
ایک شخص امام بخش نے اپنےبیٹے ’’محمد ندیم‘‘ کے نکاح کے موقع پر اپنی بہو’’رخسانہ ظفر ولد محمد ظفر‘‘ کو حق مہر میں اپنے رہائشی متعینہ مکان میں سےدس مرلہ لکھ دیا ۔
اسی طرح دوسرے بیٹوں کی شادی کے موقع پر بھی ایک کو پانچ مرلے دیا ،کیونکہ وہ زیادہ مالیت والی اتنقال والی ہے ، اور ایک بیٹے کو پیسے دئیے تھے۔ محمد ندیم والی جگہ کی مالیت کم ہے انتقال والی نہیں ہے۔ اس میں امام بخش اپنے اسی بیٹے محمد ندیم کے ساتھ رہائش پذیر بھی رہا۔ اب امام بخش فوت ہوگیا ہے تو وراثت کی تقسیم کا مسئلہ ہے ۔
شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ حق مہر والے دس مرلے کا کیا حکم ہے۔؟
جواب
جب متوفی ’’امام بخش ‘‘ نے خود نکاح نامہ میں دس مرلے مسماۃ’’رخسانہ ظفر‘‘ کے حق مہر میں لکھوا دئیے تھے ، تو یہ دس مرلے مسماۃ ’’رخسانہ ظفر‘‘ کا حق ہے ، ا س میں وراثت جاری نہیں ہوگی؛کیونکہ رخصتی اور خلوت صحیحہ کے بعد عورت پورے حق مہر کی حقدار ہوجاتی ہے اوراس کی ادائیگی لازم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ہندیہ میں ہے :
والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك۔
(ہندیہ، جلد: 1،صفحہ: 303، کتاب النکاح، الباب السابع فی المہر، الفصل الثانی فیما یتاکدبہ المہر، ط:رشیدیہ، کوئٹہ )
الحاصل: مذکورہ دس مرلے مسماۃ رخسانہ ظفر کا حق ہے اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح