فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

قبرستان سے شارع عام /راستہ نکالنے کا حکم

فتویٰ نمبر 821202610002 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

قبرستان سے شارع عام /راستہ نکالنے کا حکم

سوال
کیا وقف زمین برائے قبرستان جو فعال ہے ، میں سے ایک گھر کے لئے سڑک بنائی جا سکتی ہے؟ جس سے 12 تا15 قبروں کی جگہ ضائع ہو سکتی ہے ۔قبرستان مکمل طور پر فعال ہے جو ہمارے والد نے برسوں پہلے وقف کیا تھا۔راہنمائی فرمائیں تا کہ ہم اس گناہ سے بچ سکیں۔شکریہ
جواب
واضح رہے کہ مسلمان کی قبر کاادب کرنے کا حکم دیا گیا ہےکہ اس پر بیٹھنےوالے کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا : لأن یجلس أحد کم علی جمرة فتحرق ثیا به فتخلص الی جلده خیر له من ان یجلس علی قبر(مشکوٰۃ شریف ص ۱۴۸) ترجمہ: رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا :تم میں سے کوئی آگ کے (انگارے) پر بیٹھے جس سے اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ کا اثر اس کے جسم تک پہنچ جائے یہ اس کے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے ۔ لہذا قبرستان کو عام راستہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے کہ قبرستان عبرت کی جگہ ہے، جب اس کو عام گزرگاہ بنا دیا جائے گاتو یہ جائےعبرت نہیں رہے گا ، البتہ اگر ضرورت ہوتو قبرستان سے گزرا جاسکتا ہے، لیکن قبروں کا لحاظ ضرور رکھے کہ ان پر نہ چلے؛ کیونکہ آپﷺ نے قبروں پر چلنے سے منع کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: لا تجلسوا علی القبور ۔۔۔ الحدیث(مشکوٰۃ شریف ص ۱۴۸) ترجمہ: قبروں پر مت بیٹھو۔۔۔  بلکہ فقہاء کرامؒ نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر قبرستان کے راستہ کو دیکھ کر دل میں یہ خیال جم جائے کہ لوگوں نے قبروں کو مسمار کرکے اس کو بنایا ہے تو اس راستہ پر نہ چلے۔ لما في الدر المختار  يكره المشي في طريق ظن أنه محدث حتى إذا لم يصل إلى قبره إلا بوطء قبر تركه (الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 245 ط:دارالفکر) ولما في فتاوى قاضي خان: ويكره القعود على القبر ولو وجد طريقاً في المقبرة وهو يظن أنه طريق أحدثوا لا يمشي في ذلك وإن لم يقع ذلك في ضميره لا بأس بأن يمشي فيه  (كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 1/ 172 ط:رشيديه) خلاصہ یہ ہے کہ قبرستان سے مستقل راستہ نکالنا شرعاً جائز نہیں ہے۔خصوصا جبکہ قبروں کی بے حرمتی لازم آ رہی ہو۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: جنائز