فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

نکاح کب فرض ، واجب اور حرام ہوتا ہے؟

فتویٰ نمبر 812202610001 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

نکاح کب فرض ، واجب اور حرام ہوتا ہے؟

سوال
نکاح کب فرض ، واجب اور حرام ہوتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جب زنا میں مبتلا ہونا یقینی ہو اور نکاح کے بغیر اس سے بچنے کی کوئی صورت نہ ہو تو فرض ہے، اور جب جب زنا میں پڑنے کا قوی اندیشہ/خوف ہوتو واجب ہے، جب نکاح کی رغبت ہو، مہر و نفقہ اور وطی کی قدرت ہو، زنا کا خوف نہ ہو اور ظلم کا اندیشہ نہ ہوبلکہ حالتِ اعتدال ہوتو سنتِ مؤکدہ / مستحب ہے، جب بیوی پر ظلم و جور کا اندیشہ ہو، مگر یقین نہ ہوتو مکروہ تحریمی ہے، اور جب بیوی پر ظلم و جور کرنا یقینی ہو تو حرام ہے۔ لما في الفتاوى الهندية: (وأما صفته) فهو أنه في حالة الاعتدال سنة مؤكدة، وحالة التوقان واجب وحالة خوف الجور مكروه (كتاب النكاح، الباب الاول، 1/ 267 ط:دار الفكر) ولما في النهر الفائق شرح كنز الدقائق : (وهو) أي: النكاح (سنة) مؤكدة على الأصح يعني: حالة الاعتدال بدليل جعل التوقان مقابلاً، وهو القدرة على المهر والنفقة والوطء مع عدم الخوف من الزنا والجور وترك الفرائض والسنن...(وعند التوقان) مصدر واقت نفسه إلى كذا اشتاقت من حد طلب كذا في (المغرب) والمراد شدة الاشتياق كما في (الشرح) بحيث يخاف الوقوع في الزنا لو لم يتزوج لا أصله ليصح قوله: (واجب) أي: لازم إذ لا وجوب لو لم يصل إلى هذه الحالة غير أنه إن كان بحيث أنه لا يمكنه الاحتراز عنه إلا به كان فرضاً (كتاب النكاح، 2/ 175 ط:دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح