فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ورثاء میں ایک بیوہ، چار بھائی اور پانچ بہنیں ہوں تو وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟

فتویٰ نمبر 726202610392 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ورثاء میں ایک بیوہ، چار بھائی اور پانچ بہنیں ہوں تو وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟

سوال
محمد علی کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوہ، چار بھائی، اور پانچ بہنیں ہیں۔مرحوم  کے والدین اس کی زندگی میں ہی انتقال کر گئے تھے۔نیز مرحوم لا ولد تھا، اس نے ایک لڑکا مسمی خالد گود لے رکھا تھا۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ4/52 مضروب 13 محمد علی(متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیوہ ۔بھائی ۔بھائی ۔بھائی ۔بھائی ۔بہن ۔بہن ۔بہن ۔بہن ۔بہن 1۔ 3  13 ۔6 ۔6 ۔6 ۔6 ۔3 ۔3 ۔3۔ 3 ۔3 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد علی(مرحوم) کا کل ترکہ 52 حصے ہو کر بیوہ کو 13 حصے اور ہر بھائی کو 6 حصے اور ہر بہن کو 3 حصے ملیں گے۔ خالد لے پالک ہونے کی وجہ سے شرعاً محمد علی (مرحوم) کے ترکہ سے محروم رہے گا۔ لما في الفتاوى الهندية: ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء (کتاب الفرائض، 6 / 447 ط: دارالمعرفة)  فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض