فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عدالتی خلع کو شوہر تسلیم کرلے تو حکم

فتویٰ نمبر 726202610388 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عدالتی خلع کو شوہر تسلیم کرلے تو حکم

سوال
میری بیٹی لائقہ اقبال کی اپنے شوہر احمد رضا کے ساتھ نہ بن سکی تو ہم نے بذریعہ عدالت خلع کی ڈگری لے لی، اور شوہر (احمد رضا) نے اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے الگ سے تحریر بھی لکھ دی ہے ، جوکہ ساتھ لف ہے۔ آیا اب بچی کی علیحدگی ہوگئی ہے یا نہیں؟
جواب
برتقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں جب احمد رضا (شوہر) نے عدالتی خلع کے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے تو اس سے لائقہ اقبال پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، عدت گزرنے کے بعد لائقہ اقبال دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ دوبارہ رجوع کرنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نیا حق مہر طے کرتے ہوئے نکاح کرکے آباد ہوسکتے ہیں۔ اگر اس خلع کے علاوہ شوہر نے کبھی طلاق نہیں دی، نہ زبانی اور نہ ہی تحریری کو نکاح کرنے کے بعد شوہر کو صرف دو طلاقیں دینے کا اختیار باقی رہے گا۔ لیکن اگر یہ یکطرفہ خلع ہے کہ شوہر بالکل حاضر ہی نہ ہوا یا عدالت میں حاضر ہوا لیکن فیصلے کو تسلیم نہ کیا تو اس طرح شرعاً نکاح برقرار ہے، جیساکہ دار الافتاء بنوری ٹاؤن ، کراچی کا تفصیلی فتوی موجود ہے۔   لما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:   وأما ركنه (أي الخلع) فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول   (كتاب الطلاق،3/ 145 ط:دار الكتب العلمية)   هكذا في رد المحتار (الدر مع الرد، كتاب الطلاق، باب الخلع، 3/ 441 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق