فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

حق مہر ادا کرنےمیں ٹال مٹول کرنا شرعاً کیسا ہے؟

فتویٰ نمبر 725202610386 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

حق مہر ادا کرنےمیں ٹال مٹول کرنا شرعاً کیسا ہے؟

سوال
ایک شخص نے شادی کر لی ہے لیکن وہ اپنی بیوی کو حق مہر دینے میں ٹال مٹول کر رہا ہے جبکہ رخصتی ہوگئی ہے اور حق مہر بھی معجل ہے۔ اس بنا پر فریقین میں جھگڑا ہے اس کا شرعی حل ارشاد فرمائیں۔
جواب
رخصتی کے بعد عورت پورے حق مہر کی حقدار ہے۔   ويتأكد (عند وطئ أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 102)  لہذٰا شخص مذکور کو چاہیے کہ وہ حق مہر مکمل ادا کرے  ورنہ آخرت میں سخت پکڑ ہوگی، آپﷺ کا فرمان ہے: عن ميمون الكردي، عن أبيه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم لا مرة ولا مرتين ولا ثلاثة حتى بلغ عشر مرار: «أيما رجل تزوج امرأة بما قل من المهر أو كثر ليس في نفسه أن يؤدي إليها حقها، خدعها، فمات ولم يؤد إليها حقها، لقي الله يوم القيامة وهو زان» (المعجم الأوسط، باب الألف، من اسمه أحمد، رقم الحدیث: 1851 2/ 237 ط: دار الحرمين) جو شخص کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر پر شادی کرے ، اور اس کے دل میں اس عورت کے حق مہر کو ادا کرنے کا اِرادہ نہ ہو ؛ بلکہ اس نے اسے دھوکہ دیا ہو پھر وہ عورت کا حق ادا کئے بغیر مرجائے تواللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اس کا شمار بدکاروں میں ہوگا ۔ فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح