فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

حق مہر ادا نہ کیا ہو اور لڑکی والے مطالبہ کریں، جھگڑا ہونے لگے تو حکم

فتویٰ نمبر 725202610385 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

حق مہر ادا نہ کیا ہو اور لڑکی والے مطالبہ کریں، جھگڑا ہونے لگے تو حکم

سوال
ایک شخص نے شادی کر لی ہے لیکن وہ اپنی بیوی کو حق مہر دینے میں ٹال مٹول کر رہا ہے اس بنا پر فریقین میں جھگڑا ہے اس کا شرعی حل ارشاد فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ مہر شوہر پر ایک واجب الادا دین (قرض)  ہوتاہے، جس سے چھٹکارا ادائیگی یا بیوی کی اپنی خوشی سے معافی کے بغیر ممکن نہیں۔ باقی متعلقہ جواب سے پہلے سمجھ لیں کہ مہر کی دو قسمیں ہیں: ایک معجل(فوری ادا کرنا)، دوسرا مؤجل(عند الطلب یا کسی مقررہ میعاد پر ادا کرنا)۔ لہٰذا اگر نکاح کے وقت مہر معجل طے ہوا تھا یا اس کی ادائیگی کی کوئی خاص میعاد مقرر نہیں کی گئی تھی، تو بیوی کو یہ مکمل شرعی حق حاصل ہے کہ وہ مہر وصول ہونے تک شوہر کو اپنے پاس آنے (ساتھ رہنے) سے روک دے۔ اس صورت میں بیوی کا یہ اقدام شرعاً سرکشی  ونافرمانی (نشوز) نہیں کہلائے گا، اور شوہر پر اس کے نان و نفقہ (روٹی، کپڑا، مکان) کی ذمہ داری پھر بھی عائد رہے گی۔ اور اگر مہر کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ کوئی وقت یا شرط (مثلاً ایک سال بعد یا طلاق/وفات کے وقت) طے کی گئی تھی، تو مقررہ وقت سے پہلے شوہر پر مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن مقررہ وقت آنے پر اس کی ادائیگی لازم ہو جاتی ہے۔ لما في الفتاوى الهندية: والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء (كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر، 1/ 303 ط:دارالكتب العلمية) ولما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: للمرأة قبل دخول الزوج بها أن تمنع الزوج عن الدخول حتى يعطيها جميع المهر ثم تسلم نفسها إلى زوجها، وإن كانت قد انتقلت إلى بيت زوجها…تزوجها على صداق عاجل أو كان مسكوتا عن التعجيل والتأجيل؛ لأن حكم المسكوت حكم المعجل (كتاب النكاح، فصل بيان ما يجب به المهر، 2/ 288 ط:دار الكتاب الإسلامي) فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح