فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عورتوں کو وراثت سےحصہ نہ دینے کا حکم

فتویٰ نمبر 725202610384 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عورتوں کو وراثت سےحصہ نہ دینے کا حکم

سوال
ہمارے ہاں عورتوں کومیراث میں سے حصہ نہیں دیاجاتاتواس کےبارے میں شرعاکیاوعیدات ہیں؟
جواب
اللہ جل شانہ نے مردوں کی طرح  عورتوں کا بھی حق مقرر فرمایا ہے ، عورتوں کو میراث سےمحروم کرناسخت ترین (کبیرہ) گناہ او رظلم ہے ۔جو لوگ عورتوں کو حصہ نہیں دیتے بلکہ خود رکھ لیتے ہیں  ، یہ مال شرعاً اُن کیلئے حلال نہیں۔   لقولہٖ تعالیٰ:‘‘{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29) } [النساء: 29، 30] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان  ہے: أَلا لَا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى۔ (مشکوٰۃ المصابيح ، رقم الحدیث 2946، 2/ 889) نیز عورتوں کو وراثتی  حصہ نہ دینا شرعاً غصب کے  مترداف ہے ، اور غصب کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ : ’’ جو کسی کی ناحق ایک بالشت زمین غصب کرے گا اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ ‘‘ ’’ عن سعید بن زید قال: سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع أرضین‘‘( (صحیح البخاری، باب إثم من ظلم شيئا من الأرض ، رقم الحدیث : 2452صحيح مسلم ، باب تحریم الظلم  رقم الحدیث:1610) ایک حدیث شریف میں ہے کہ:’’  جو شخص وارث کو اس کی وراثت سے محروم کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے حصے سے محروم کر دیں گے۔‘‘ چنانچہ مشکوٰۃ شریف  میں ابن ماجہ کے حوالے سے حضرت  انس رضی اللہ کی روایت ہے : :وعن أنسؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة».رواه ابن ماجه". (مشکوۃ:ج،1،ص ،266۔باب الحیف فی الوصایا) فقط واللہ اعلم 
حوالہ: فرائض