’’طلاق ہے یہ کام میں کروں گا‘‘ کہنے کا حکم۔
سوال
دو بھائیوں یا چند دوستوں میں سے ہر ایک ایک کام کیلئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن دوسرا کہتا ہے کہ طلاق ہے یہ میں کروں گا(مثلا یہ کہتا ہے کہ:’’ طلاق ہے کہ پیسے میں دونگا)۔ اب یہ کہنے کے بعد کبھی تو دو سرا وہ کا م کرنے سے (پیسے دینے سے) رک جاتا ہے۔ لیکن کبھی یہ کہنے کے باوجود دوسرا وہ کام کر دیدیتا ہے، تو کیا اس صورت میں طلاق ہوجائے گی ؟
جواب
صورت مسئولہ میں اگر یہ الفاظ ’’طلاق ہے یہ میں کروں گا، کہنے والا وہ کام نہیں کرتا یا ’’طلاق ہے پیسے میں دونگا‘‘۔کہنے والا پیسے نہیں دیتا بلکہ اس کی بجائے کوئی دو سرا یہ کام کرتا ہے تو اس طرح کہنے والے کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی۔
واضح رہے کہ بیوی کی طلاق کو کسی پر دباؤ بڑھانے کیلئے ، اپنی بات منوانے کیلئے ، اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے یا کسی عمل پر اصرار کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنابہت ہی خطرناک ہے، یہ طلاق کو کھیل اور مذاق بنالینے کے مترادف ہے جو کہ شریعت کی نگاہ میں نہایت قابلِ مذمت ہے۔ نکاح ایک عظیم نعمت اور مضبوط عہد ہے،شریعت نے طلاق کو اگرچہ ضرورت کے وقت مشروع رکھا ہے، لیکن اسے پسندیدہ عمل قرار نہیں دیا، یہی وجہ ہے کہ اسے ابغض الحلال (حلال چیزوں میں سے سب سے ناپسندیدہ )قرار دیا گیا ہے۔ اور روایات میں بلاوجہ طلاق دینے دینے والے پرشدید وعیدات وارد ہیں۔
چنانچہ تبیین الحقائق میں ہے :
لا يباح إلا للضرورة لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لعن الله كل ذواق مطلاق». وقال - عليه الصلاة والسلام - «أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق»، وقال - عليه الصلاة والسلام - «تزوجوا ولا تطلقوا»، وقال - عليه الصلاة والسلام - «لا تطلقوا النساء إلا من ريبة إن الله لا يحب الذواقين ولا الذواقات»
(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، جلد:2،صفحہ: 189)
الحاصل: اپنی بات منوانے کیلئے بیوی کی طلاق کو ہتھیار کے طو رپراستعمال کرنا ، یا بات بات پر طللاق کا ذکر کرنا شرعًا ناپسندیدہ ، انتہائی قبیح عمل ہے ،اگر شرط کی خلاف ورزی پائی گئی تو اس صورت میں شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق