فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

دوستوں کے ساتھ بحث کے دوران اپنی بات منوانے کیلئے طلاق کے الفاظ کہنا۔

فتویٰ نمبر 724202610377 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

دوستوں کے ساتھ بحث کے دوران اپنی بات منوانے کیلئے طلاق کے الفاظ کہنا۔

سوال
کئی لوگوں کا یہ طرز عمل ہے کہ جب چند دوست کسی ہوٹل میں چائے پیتے ہیں یا اور کوئی چیز کھاتے ہیں۔ تو ہر ایک پیسے دینے کی کوشش کرتا ہے ، ایک کہتا ہے میں دیتا ہوں دوسرا کہتا ہے میں دیتا ہوں پھر ایک کہتا ہے :’’طلاق دی چی پیسے بہ زو در کوم‘‘ ( طلاق ہے کہ پیسے میں دونگا)۔ اب یہ کہنے کے بعد کبھی تو دو سرا پیسے دینے سے رک جاتا ہے۔ لیکن کبھی یہ کہنے کے باوجود دوسرا پیسے دیدیتا ہے، تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں ؟ اسی طرح دوسرے موقعوں پر بھی اس طرح کے الفاظ لوگ استعمال کرتے ہیں کیا انکا بھی یہی حکم ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ اگر ان الفاظ سے قسم یا طلاق واقع ہو جاتی ہے ، تو بعض لوگ قسم اور طلاق کے ساتھ عدد بھی استعمال کرتے ہیں مثلاً " درے قسم " ( تین قسم ) ، "درے طلاق " ( تین طلاق) ، تو کیا عد د کے مطابق قسم اور طلاق واقع ہو گی ؟ بہت سے لوگ مذکورہ طریقہ پر تین طلاقوں کے بعد بھی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھتے ہیں اور ان سے ہمبستری بھی کرتے ہیں، تو ان کا کیا حکم ہے ؟
جواب
صورت مسئولہ میں اگر یہ الفاظ ’’طلاق ہے کہ پیسے میں دونگا‘‘۔کہنے والا پیسے نہیں دیتا بلکہ  اس کی بجائے کوئی  دو سر اپیسے دیدیتا ہے، تو اس طرح کہنے والے کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔ اگر وہ ’’درے طلاق " ( تین طلاق) کا لفظ استعمال کرتا ہے تو پیسے نہ دینے کی صورت میں اس کی بیوی پر تین طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوجائے گی۔ اس کے بعد بیوی کو اپنے پاس رکھنا حرامکاری کے زمرے میں آئے گا۔ واضح رہے کہ بیوی کی طلاق کو کسی پر دباؤ بڑھانے کیلئے ، اپنی بات منوانے کیلئے ، اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے یا کسی عمل پر اصرار کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنابہت ہی  خطرناک ہے، یہ طلاق کو کھیل اور مذاق بنالینے کے مترادف ہے جو کہ  شریعت کی نگاہ میں نہایت قابلِ مذمت ہے۔ نکاح ایک عظیم نعمت اور مضبوط عہد ہے،شریعت نے طلاق کو اگرچہ ضرورت کے وقت مشروع رکھا ہے، لیکن اسے پسندیدہ عمل قرار نہیں دیا، یہی وجہ ہے کہ اسے ابغض  الحلال (حلال چیزوں میں سے سب سے ناپسندیدہ )قرار دیا گیا ہے۔ اور روایات میں بلاوجہ طلاق دینے دینے والے پرشدید  وعیدات وارد ہیں۔  چنانچہ تبیین الحقائق میں ہے : لا يباح إلا للضرورة لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لعن الله كل ذواق مطلاق». وقال - عليه الصلاة والسلام - «أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق»، وقال - عليه الصلاة والسلام - «تزوجوا ولا تطلقوا»، وقال - عليه الصلاة والسلام - «لا تطلقوا النساء إلا من ريبة إن الله لا يحب الذواقين ولا الذواقات» (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، جلد:2،صفحہ: 189)              الحاصل: اپنی بات منوانے کیلئے بیوی کی طلاق کو ہتھیار  کے طو رپراستعمال کرنا ، یا بات بات پر بطور تکیہ کلام بیوی کی طلاق کا ذکر کرنا ، شرعًا ناپسندیدہ انتہائی قبیح عمل ہے ،اگر شرط کی خلاف ورزی پائی گئی تو اس صورت میں  شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق