فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

کیا وصیت پر عمل کرنا شرعاً ضروری ہے ؟

فتویٰ نمبر 723202610374 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

کیا وصیت پر عمل کرنا شرعاً ضروری ہے ؟

سوال
’’ اگر متوفی نے کوئی جائز وصیت کی یعنی غیر وارث کے حق میں وصیت کی اور اپنے کل مال کے ایک تہائی سے کم کی وصیت کی ہو تو اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر کوئی ایک یا سب ورثاء متوفی کی وصیت پر عمل نہ کریں تو کس حد تک مجرم ہوں گے۔؟
جواب
اگر واقعی متوفی نے غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہے تو میت کے کل ترکہ سے تجہیز و تکفین اور ادائے قرض کے بعد ثلث مال کے اندر وصیت کو پورا  کرنا ورثاء پر لازم ہے جائز وصیت کو پورا نہ کرنے کی صورت میں ورثاء گناہ گار ہوں گے کیونکہ وصیت کو پورا کرنا میت کا حق ہے اور اس کا حکم نص قطعی قرآن مجید میں ہے ، لہذا جو بھی میت کے حق کو ترک کرے گا وہ گناہ گار ہوگا۔ لقولہ تعالیٰ : ’’من بعد وصیت یوصی بھا او دین غیر مضار۔(النساء:11) وفی السراجی: ’’تعلق بترکت المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبداء بتکفینہ وتجییزہ من غیر تبذیر ولا تفتیر ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ۔ (السراجی فی المیراث صفحہ نمبر 4تا 6 ، وھکذا فی الھندیہ،  کتاب الفرائض) فقط واللہ اعلم
حوالہ: وصیت