فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

رشتہ طے کرتے وقت لڑکی والوں سے رقم لینا۔

فتویٰ نمبر 723202610371 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

رشتہ طے کرتے وقت لڑکی والوں سے رقم لینا۔

سوال
ہمارے علاقہ میں جب لڑکی کا کسی سے رشتہ کیا جاتا ہے تو لڑ کی کے اولیاء لڑکے سے یالڑکے کے اولیاء سے ۵ لاکھ یا دس لاکھ یا اس سے زیادہ لے لیتے ہیں، جبکہ مجلس نکاح کے وقت پھر لڑکی کیلئے کچھ نہ کچھ مہر مقر ر کیا جاتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ان میں سے مہر کون سا ہو گا؟ ( مجلس نکاح سے پہلے جو پیسے لئے گئے ہیں یا جو پیسے مجلس نکاح میں مقرر کئے گئے ہیں ) اگر اول مہر ہے تو کیا نکاح سے پہلے مہر لینا ، دینا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز ہے تو پھر ثانی کا کیا حکم ہو گا یعنی وہ بھی لازم ہو گا یا نہیں ؟ اور اگر ثانی مہر ہے تو اول کیا چیز ہے؟ وہ بھی مہر ہے یارشوت ہے یا ہدیہ ، اس کا دینا لازم ہے یا نہیں ؟ اس طرح کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ لڑکی کے اولیاء کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی لڑکی دیدی اور آپ نے اتنے پیسے دینے ہیں۔ لڑکے کے اولیاء کہتے ہیں: ٹھیک ہے ، رخصتی کے وقت نکاح کیلئے پھر مجلس منعقد کی جاتی ہے اس میں با قاعدہ خطبہ نکاح ہوتا ہے اور ایجاب و قبول ہوتا ہے ۔ تو کیا رشتہ کے وقت جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ان سے نکاح ہو جاتا ہے ؟ جبکہ اس میں خطبہ نکاح کا اہتمام بھی نہیں ہوتا۔ اگر اس لیکن سے نکاح ہو گیا ہے تو دوبارہ نکاح کرنا کیسا ہے ؟ جواب مع ادلہ شرعیہ ارسال فرمادیں۔
جواب
رشتہ طے کرتے وقت لڑکی والوں کی طرف سے جو رقم لی جاتی ہے اگر یہ رقم  لڑکی  کے حق مہر کے علاوہ ہے اور نکاح فارم میں درج دیگر مدات بدل ِحق مہر ،سکنٰی  وغیرہ  کے علاوہ   ہوتی ہےجو لڑکی کو نہیں دی جاتی ، بلکہ لڑکی کے اولیاء خود رکھ لیتے ہیں تو یہ لڑکی کا معاوضہ ہے اورکسی آزاد انسان کی بیع شراء یا اس کا معاوضہ لینا شرعاً حرام ہے۔  عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:’’قال اللّٰہ: ثلاثۃ أنا خصمھم یوم القیامۃ: رجل أعطی بی ثم غدر ورجل باع حرا فأکل ثمنہ ورجل استأجر أجیرا فاستوفی منہ ولم یعط أجرہ۔ (بخاری شریف، باب اثم من باع حراً، کتاب البیوع ،حدیث نمبر:۲۲۲۷، کتاب الاجارہ، حدیث نمبر:۲۲۷۰) ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں  کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہے:’’ تین شخص ایسے ہیں  جن کے خلاف قیامت کے دن میں  خود مدعی ہوں  گا۔(ایک)وہ شخص جو میرا نام لے کر عہد کرے پھر عہد شکنی کرے (دوسرا)وہ آدمی جو کسی آزاد انسا ن کوبیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھالے اور (تیسرا)وہ شخص جو کسی کو مزدوررکھے پھر اس سے پورا کام لے کر اس کو اجرت نہ دے۔‘‘ سائل کے بیان کے مطابق مہر مجلس نکاح میں اس کے علاوہ طے کیا جاتا ہے اس سے یہی ظاہرہوتا ہے کہ یہ رقم بطور مہر نہیں لی جاتی بلکہ بطور معاوضہ لی جاتی ہے ، اس طرح کی رقوم کا لین دین اور لڑکیوں کےاولیاء کیلئے اس کا استعمال  ہرگزجائز نہیں ۔ لہٰذااس طرح کے معاملات کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے قہر سے ڈریں او راس سے باز آ جائیں اور سچے دل سے توبہ کر کے اب تک اس مد میں جو رقم لے چکے ہیں وہ واپس کردیں ۔ یا د رہے کہ بعض پٹھان خاندانوں میں لڑکی کا رشتہ طے کرتے وقت لڑکی کا جہیز لڑکے کے ذمّہ کردیا جاتا ہے یہ سامان چونکہ لڑکی کو ہی ملتا ہے اس لیے اس رواج کے صحیح یا غلط سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ عقد معاوضہ میں داخل نہ ہوگا۔ بشرطیکہ یہ ساری رقم لڑکی کے جہیز میں ہی خرچ کی جائے اگر کچھ جہیز میں خرچ کریں اور باقی خود رکھیں تو معاوضہ میں داخل ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح