فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

طلاق کے بعد زوجین کیلئے تحفے تحائف و ہدایا واپس لینے کا حکم

فتویٰ نمبر 721202610362 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

طلاق کے بعد زوجین کیلئے تحفے تحائف و ہدایا واپس لینے کا حکم

سوال
سائلہ کے خاوند نے سائلہ کو واٹس ایپ پر ٹیکسٹ میسج کے ذریعے متعدد مرتبہ لکھا ہےکہ :’’میں نے تمہیں آزاد کردیا ہے ، میری طرف سے آزاد ہو۔ وغیرہ ‘‘ہر مربتہ آزاد کا لفظ ہی استعمال کیا ہے ، البتہ اس سے پہلے وہ مجھے طلاق کی دھمکی دیتے رہے ہیں کہ میں تمہیں طلاق دیدوں گا۔ اس سے پہلے باقاعدہ طلاق نہیں دی۔ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں۔ (مذکورہ بالا میسج محفوظ ہیں۔) 2۔ کیا وہ دوبارہ مجھے ساتھ رہنے پر مجبور کرسکتے ہیں؟ 3۔ جب انہوں نے طلاق دیدی ہے اور میں وہاں آباد نہیں ہونا چاہتی تو کیا میں اپنا سامان ان سے واپس لے سکتی ہوں۔ 3۔ انہوں نے مجھے جو تحفہ تحائف دئیے تھے اب وہ واپس مانگ رہے ہیں تو کیا وہ واپس لے سکتے ہیں۔ ؟
جواب
صورت مسئولہ میں ایک طلاق بائنہ کے ساتھ سائلہ شخص مذکورکے نکاح سے آزاد ہوچکی ہے۔ ’’فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاکرۃ والکنایات ثلاث ما یحتمل الرد أو ما یصلح للسب أو لا ولا فنحو اخرجی واذہبی …  یحتمل ردا ونحو خلیۃ بریۃ حرام … یصلح سبا ونحو اعتدی واستبریٔی … أنت حرۃ … لا یحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضا أی غیر الغضب والمذاکرۃ تتوقف الأقسام الثلاثۃ تأثیرا علی نیۃ … وفی الغضب وقف الأولان إن نوی وقع وإلا لا وفی مذاکرۃ الطلاق یتوقف الأول فقط ویقع بالأخیرین وإن لم ینو‘‘(درمختار ،جلد:۳،صفحہ:۵۲) واضح رہے کہ شخص مذکور نے  اگرچہ ’’آزاد ‘‘ کا لفظ متعدد بار استعمال کیا ہے،اس کے باوجود صرف ایک مرتبہ ہی مؤثر  ہے، اس  لیے کہ فقہ کا ضابطہ ہے کہ طلاق بائن کو بائن لاحق نہیں ہوتی یعنی ایک طلاق بائنہ کے بعد دوسری بائنہ لغو(بے اثر)ہوتی ہے۔چنانچہ شامیہ میں ہے:  ’’والبایٔن یلحق الصریح لا البایٔن‘‘(شامیہ، جلد:۳،صفحہ:۳۳۸) لہٰذا اگر واقعی شخص مذکور نے اس سے  پہلے کبھی کوئی طلاق نہیں دی اور فریقین باہم رضامندی سے دوبارہ آباد ہونا چاہتے ہوں تو نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے آباد ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس سلسلہ میں کوئی کسی پر جبر نہیں کرسکتا ۔  وینکح مبانتہ بما دون الثلاث فی العدۃ وبعدہا بالاجماع۔(شامیہ، ، جلد:۲،صفحہ:۷۳۸) لہٰذا فریقین کے درمیان دوبارہ نکاح کی گنجائش ہے۔  لیکن یا در ہے کہ دوبارہ نکاح کے بعد بھی یہ ایک طلاق گنتی میں رہے  گی اور شخص مذکور کیلئے مزید صرف دو طلاق کا حق باقی رہے گا۔ (3۔4) جو سامان آپ کا اپنا ذاتی ہے (مثلا جہیزوغیرہ) یا ان کی طرف سے تحفہ میں دیا گیا تھا وہ آپ کا حق ہے وہ آپ لے سکتی ہیں۔ خاوند نے جو تحفے دئیے  تھے شرعا ًاسے وہ واپس لینے  کا حق نہیں ۔ اس لیے کے قریبی کو دیا گیا تحفہ واپس نہیں لیا جاسکتا۔ چنانچہ فتح القدیر میں ہے : ”وإن وھب ھبۃ لذی رحم محرم منہ فلا رجوع فیھا لقولہ  علیہ الصلاۃ والسلام  إذا کانت الھبۃ لذی رحم محرم منہ لم یرجع فیہا ؛ ولأن المقصود فیھا صلۃ الرحم وقد حصل وکذلک ما وہب أحد الزوجین للآخر؛ لأن المقصود فیھا الصلۃ کما فی القرابۃ۔“ (فتح القدیر، جلد:۹،صفحہ:۴۴) فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق