فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بچہ گود لینے سےمتعلق شرعی احکام ورہنما اصول

فتویٰ نمبر 721202610358 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بچہ گود لینے سےمتعلق شرعی احکام ورہنما اصول

سوال
زید کے ہاں اولاد نہیں ہے ، جبکہ اس کے دوست بکر کی پہلے سے اولاد ہے۔ بکر کے نئے پیدا ہونے والے بچے کو زید گود لینا چاہتا ہے ، کیا یہ جائز ہے۔بعض اوقات اولاد ہوتی ہے لیکن نرینہ اولاد نہیں ہوتی یا بعض اوقات صرف نرینہ اولاد ہوتی ہے ، لڑکی کی خواہش کے پیش نظر ایسا کرتے ہیں۔ اگر یہ عمل جائز ہے تو اور اس کی کیا شرائط ہیں؟لوگ کہتے ہیں کہ اس سے بعد میں پردے اور وراثت کے مسائل ہوتے ہیں۔ شریعت کی روشنی میں تفصیل سے آگاہ فرمائیں۔
جواب
اگر کوئی  شخص کسی دوسرے شخص کے بچے کو (اپنی اولاد نہ ہونے کے باعث یا اولاد کے ہوتے ہوئے مزید کسی بچے کو )گود لینا  چاہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ، بشرطیکہ  درج ذیل امور کو ملحوظ رکھائے جائے۔ 1۔         لے پالک بچےکو اصل والدین کی طرف منسوب کرتے ہوئے  اس کے کوائف ،سرکاری ودیگر دستاویزات(سکول، مدرسہ میں داخلے کے وقت ،  اسناد میں ، ب فارم، شناختی کارڈ ، نکاح نکامہ وغیرہ ) میں اس کے اصل والدین کا نام لکھوایا جائے ۔ لے پالک بچے کے کوائف میں  اصل والدین کے بجائے اس کو گودلینے والوں کا نام لکھوانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : { وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 4، 5] ترجمہ: اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے، تم ان کو ان کے(حقیقی) باپوںکی طرف منسوب کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک راستی (انصاف)کی بات ہے ۔ ( بیان القرآن)      غیر باپ کی طرف نسبت کرنے والے پر حدیث پاک میں لعنت ، اور جنت سے محرومی کی وعید شدید وارد ہے ۔ قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم : ’’من ادعی إلی غیر أبیہ أو انتمی إلی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اللّٰہ المتتابعۃ إلی یوم القیامۃ‘‘ (مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی) وقال علیہ الصلوٰۃ والسلام : ’’من ادعی إلی غیر أبیہ وہو یعلم فالجنۃ علیہ حرام‘‘ (بخاری ومسلم)                         البتہ ولدیت  میں اصل والدین کا نام لکھوا کر سرپرست اور گارڈین میں گود لینے والا اپنا نام لکھواسکتا ہے۔ 2۔          گودلینے والے مرد وعورت کا اگر اس بچے سے محرمیت کا رشتہ نہیں ہے تو اس بچہ /بچی کے بالغ ہونے کے بعد پردے کے احکام لاگوہونگے ، اس لیے بہتر یہ ہے کہ  گود لینے والی عورت کے ہاں اگر دودھ ہے تو وہ  خوداس بچہ /بچی کو رضاعت کی مدت میں دودھ پلا دے اس صورت میں یہ ان کارضاعی بچہ (بیٹا /بیٹی)  بن جائے گا۔ اور رضاعی رشتہ نکاح وپردے کے احکام میں نسبی رشتہ کی طرح ہے۔ عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم في بنت حمزة: «لا تحل لي، يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، هي بنت أخي من الرضاعة» (صحيح البخاری، کتاب الشہادات، باب الشهادة على الأنساب، والرضاع المستفيض، والموت القديم، رقم الحدیث: 2645) اگر گودلینے والی عورت کے ہاں دو دھ نہ ہو تو پھر اگر گود لیا گیا بچہ لڑکا ہے تو گود لینے والی عورت کی محرما ت ( ماں ، بہن ، بھانجی ، بھتیجی وغیرہ)  میں سے کوئی بھی اس بچے کو رضاعت کی مدت میں دودھ پلادے تو اس صورت میں وہ لڑکا رضاعت کی وجہ سے اس عورت کیلئے محرم بہن جائے گا، اور اگر لڑکی ہے تو پھر گود لینے والے مرد کی   محرمات ( ماں، بہن ، بھانجی ، بھتیجی وغیرہ میں سے کوئی ایک ) اس کو دودھ پلا دے تو وہ لڑکی اس مرد کیلئے محرم بن جائے گی۔ اور بعد میں پردے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ 3۔    گود لیا گیا بچہ وراثت کے مسائل میں بھی اصل والدین کی طرف منسوب ہوگا، یعنی اصل والدین کی وفات کی صورت میں ان کے ترکہ سے حصہ کا حقدار ہوگا۔ اور اصل والدین اس کے ترکہ کے حقدار ہونگے۔ یہ بچہ گود لینے والے مردو عورت کے ترکہ کا حقدار نہیں ہونگے او رنہ وہ اس کے ترکہ کے حقدار ہونگے۔ چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے: "فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك." (الاحزاب: ۵،  جلد ، ۷ صفحہ: ۲۸۴ )           حضرت اقدس مفتی محمد شفیع عثمانی نوراللہ مرقدہ مذکورہ بالا آیت(الاحزاب:4، 5) کے تحت لکھتے ہیں: جاہلیت کے زمانے میں عرب  ۔۔۔۔۔ میں ایک رسم یہ تھی کہ ایک آدمی کسی دوسرے کے بیٹے کو اپنا متبنّٰی (منہ بولا بیٹا) بنا لیتا تھا اور جو اس طرح بیٹا بناتا یہ لڑکا اسی کا بیٹا مشہور ہو جاتا، اور اسی کا بیٹا کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ ۔۔۔اس لئے ۔۔ فرمایا ’’وماجعل ادعیاء کم ابناء کم‘‘۔۔۔ مطلب یہ ہےکہ : ۔۔۔ منہ بولا بیٹا تمہارا بیٹا نہیں بن جاتا۔ یعنی دوسرے بیٹوں کے ساتھ نہ وہ میراث میں شریک ہوگا اور نہ حرمتِ نکاح کے مسائل اس پر عائد ہوں گے۔۔۔  یہ حکم نافذ کردیا گیا کہ متبنیٰ بیٹے کو جب پکارو اس کا ذکر کرو تو اس کے اصلی باپ کی طرف منسوب کر کے ذکر کرو ۔ جس نے بیٹا بنا لیا ہے اس کا بیٹا کہہ کر خطاب نہ کرو ۔ کیونکہ اس سے بہت سے معاملات میں اشتباہ اور التباس پیدا ہو جانے کا خطرہ ہے۔ (معارف القرآن ،جلد:7،صفحہ: 83، 84،  سورۃ الاحزاب: 4، 5)  گود لینے والا اس بچہ کو جو کچھ دینا چاہے اپنی زندگی میں ہی دیدے، اور تمام شرعی شرائط کا بھی لحاظ رکھے ، مثلامشاع (مشترک وغیر مقسوم طور پر نہ دے) بلکہ باقاعدہ تقسیم کر کے اپنے سامان سے خالی کر کے  قبضہ دیدے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت