فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

حلالہ شرعیہ کی وضاحت اور اس کی صحیح صورت

فتویٰ نمبر 721202610356 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

حلالہ شرعیہ کی وضاحت اور اس کی صحیح صورت

سوال
میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیدی ہیں تھیں۔ میں دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہوں ، لیکن شریعت مطہرہ میں چونکہ حلالہ شرعیہ کے بغیر ہمارا نکاح شرعًا جائز نہیں ہے۔ مجھے حلالہ شرعیہ کے بارے میں وضاحت سے بتائیں کہ اس کی کیا صورت ہے جس میں گناہ بھی نہ ہو اور ہمارے لیے دوبارہ نکاح کر کے آباد ہونا جائز ہوجائے۔
جواب
قرآن وسنت کی روشنی میں حضرات فقہاء کرام کی بیان کردہ تحقیق کے مطابق تین طلاق یافتہ عورت طلاق کی عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرکے اس کے گھر آباد ہوجائے،اور ان کے درمیان خاوند بیوی والا تعلق بھی قائم ہوجائے بعد ازاں اگر وہ عورت دوسرے خاوندکے عقد نکاح سے آزاد ہوجائے، مثلاً وہ اسے ازخود طلاق دیدے، یاعورت اس سے طلاق لے،یا وہ فوت ہو جائے تو پھر دوبارہ عدت گزرنے کے بعد وہ عورت پہلے خاوند کیلئے حلال ہوجائے گی، اور اس کے ساتھ اس کا نکاح کرنا جائز ہوگا۔ قرآن کریم اور احادیث میں جو حلالہ کا ذکر ہے اس کی شرعی صورت یہی ہے۔       چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :  فَإِن طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِن بَعدُ حَتَّی تَنکِحَ زَوجًا غَیرَہُ ۔(البقرہ:۲۳۰) ترجمہ: ’’پس اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) کیلئے حلال نہ ہوگی۔‘‘      اسی طرح بخاری شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ :  ان رجلاً طلق امرأتہٗ ثلاثاً فتزوّجت فطلّق فسئل النبیَّ صل اللّٰہ علیہ وسلم أتحل للاوّل ؟ قال:’’لاحتیٰ یذوق عسیلتھا کما ذاق الاوّل‘‘ ترجمہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی تھیں، اس عورت نے دوسرے آدمی سے نکاح کیا اور فوراً ہی اس نے طلاق دیدی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پہلے خاوند کیلئے حلال ہوگئی؟ تواس کے جواب میں رسول اللہeنے  فرمایا کہ: ’’  جب تک دوسرا شوہر ہمبستری نہ کرلے حلال نہیں ہوسکتی۔ (بخاری شریف،جلد۲،صفحہ۷۹۱)                                   واضح رہے کہ اگر دوسرے آدمی سے نکاح کرتے وقت(یعنی مجلس نکاح میں) طلاق دینے کی شرط لگا دی جائے تویہ صورت شرعاً ناجائز ہے اوروہ احادیث جن میں حلالہ کرنے کرانے والوں پر لعنت کا ذکرہے ، وہ اسی صورت سے متعلق ہے، چنانچہ درمختار میں ہے :  (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك۔ الدر المختار مع الشامیہ، جلد:3، صفحہ: 414، ط: ایچ ایم سعید، کراچی )  لیکن اگر نکاح کرتے وقت  حلالہ وغیرہ کی شرط نہ لگائی گئی ہوبغیر کسی شرط کے نکاح کر لیا جائے یہ صورت بلا شبہ جائز ہے ، اس صور ت میں کسی پر کوئی گناہ نہیں ہے۔  (أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي الدر المختار مع الشامیہ، جلد:3، صفحہ: 414، ط: ایچ ایم سعید، کراچی )  البتہ دونوں صورتوں میں عورت پہلے خاوند کیلئے حلال بہر حال ہوجاتی ہے۔ چنانچہ درمختار میں ہے:  (حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال۔ الدر المختار مع الشامیہ، جلد:3، صفحہ: 415، ط: ایچ ایم سعید، کراچی ) وفی الفقہ الاسلامی:قال الحنفیۃ والشافعیۃ: تحل المطلقة ثلاثا لزوجها الأول بنكاح التحليل، لكن يكره عند الحنفية تحريما التزوج الثاني إن كان بشرط التحليل، مثل: تزوجتك على أن أحلك. لحديث: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحلل والمحلل له» ، ويصح الزواج ، ويبطل الشرط، فلا يجبر الثاني على الطلاق. فإن أضمر الزوج الأول والثاني التحليل، كان الثاني مأجورا لقصد الإصلاح، لا مجرد قضاء الشهوة ونحوها، لا يكره. (الفقہ الاسلامی وادلتہ، جلد:9،صفحہ:۶۴۴) فقط واللہ اعلم 
حوالہ: طلاق