فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

طلاق کے وقوع کیلئے بیوی کی طرف صریح/لفظی نسبت ضوری نہیں معنوی نسبت بھی کافی ہے۔

فتویٰ نمبر 715202610345 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

طلاق کے وقوع کیلئے بیوی کی طرف صریح/لفظی نسبت ضوری نہیں معنوی نسبت بھی کافی ہے۔

سوال
میرے دوست ’’غلام عباس ‘‘ نے اپنی پہلی بیوی مسماۃ’’ہما‘‘ کے پریشر میں آکر دوسری بیوی مسماۃ’’لبنیٰ ‘‘سے فون پر بات کرتے ہوئے اسے تین مرتبہ طلاق کا لفظ کہہ دیا ہے ، پہلی بیوی نے مطالبہ کیا کہ لبنیٰ کو طلاق دیدو ، وہ ٹال مٹول کر رہا تھا تو ہما نے کہا کہ اس کو طلاق نہیں دیتے تو پھر مجھے دو، آخر اس نے دوسری بیوی کو کال کر کے کہا کہ میرا گھر والوں کی وجہ سے تمہارے ساتھ گزارا نہیں ہوسکتا میں مجبور ہوں، لہٰذا :’’طلاق ، طلاق ، طلاق‘‘۔ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے ، جبکہ بیوی کی طرف کوئی نسبت موجود نہیں ہے۔
جواب
اگر واقعی شخص مذکور نے لبنیٰ کو یہ الفاظ کہے ہیں تو اس  پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت  ہوچکی ہے اب وہ  ’’غلام عباس‘‘ کے گھر آبادنہیں ہوسکتی ، نہ رجوع کی اجازت ہے نہ عقدِ جدید کافی ہے۔  قرآن وسنت کی روشنی میں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین ،تبع تابعین ، ائمہ اربعہ اور جمہورفقہائے کرام ؒکا متفقہ موقف ہے کہ ایک مجلس میں تینوں طلاقیں اکٹھی دینا اگر چہ خلافِ سنت اور ناجائز ہے تاہم اگر کسی نے اس طریقے سے تین طلاقیں دے دیں خواہ ایک ہی جملہ سے دے یا الگ الگ جملوں سے،بہر صورت تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے          فَإِن طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِن بَعدُ حَتَّی تَنکِحَ زَوجًا غَیرَہُ ۔(البقرہ:۲۳۰) اس آیت کریمہ کے تحت امام جصاصؒ احکام القرآن میں لکھتے ہیں:   فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنتین ولم یفرق بین إیقاعہما فی طہر واحد أو فی أطھار فوجب الحکم بإیقاع الجمیع علی أی وجہ أوقعہ من مسنون أو غیر مسنون ومباح أو محظور …    فالکتاب والسنۃ واجماع السلف الصالحین توجب ایقاع الثلاث معاً، وان کان معصیۃً۔‘‘(جلد:۲،صفحہ:۸۵):  طلاق کے وقوع کیلئے بیوی کا نام لینا یا اس کی طرف صریح طور پر نسبت لفظی کا ہونا ضروری نہیں ، معنوی نسبت کی کافی ہوتی ہے ،چنانچہ شامیہ میں ہے : ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اه (شامیہ علی الدر المختار، جلد: 3، صفحہ: 248)  اور صورت مسئولہ میں جب بیوی کوفون کر کے کہا کہ  :’’میرا گھر والوں کی وجہ سے تمہارے ساتھ گزارا نہیں ہوسکتا میں  مجبور ہوں۔‘‘اس میں لفظ طلاق کے ساتھ اگرچہ لفظی نسبت موجود نہیں ہے لیکن معنوی نسبت موجود ہے۔کہ وہ اس سے بات کر رہا ہے اور اسی کو کہہ رہا ہے کہ میرا تمہارے ساتھ گزارا نہیں ہوسکتا۔  الحاصل: تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، اب رجوع یا صلح کی کوئی گنجائش نہیں۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق