فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

پہلی بیوی کے دباؤ/ پریشر میں آکر دوسری بیو کو طلاق دینا

فتویٰ نمبر 715202610344 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

پہلی بیوی کے دباؤ/ پریشر میں آکر دوسری بیو کو طلاق دینا

سوال
میرے دوست ’’غلام عباس ‘‘ نے اپنی پہلی بیوی مسماۃ’’ہما‘‘ کے پریشر میں آکر دوسری بیوی مسماۃ’’لبنیٰ ‘‘سے فون پر بات کرتے ہوئے اسے تین مرتبہ طلاق کا لفظ کہہ دیا ہے ، پہلی بیوی نے مطالبہ کیا کہ لبنیٰ کو طلاق دیدو ، وہ ٹال مٹول کر رہا تھا تو ہما نے کہا کہ اس کو طلاق نہیں دیتے تو پھر مجھے دو، آخر اس نے دوسری بیوی کو کال کر کے کہا کہ میرا گھر والوں کی وجہ سے تمہارے ساتھ گزارا نہیں ہوسکتا میں مجبور ہوں، لہٰذا :’’طلاق ، طلاق ، طلاق‘‘۔
جواب
اگر واقعی شخص مذکور نے لبنیٰ کو یہ الفاظ کہے ہیں تو اس  پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت  ہوچکی ہے اب وہ  ’’غلام عباس‘‘ کے گھر آبادنہیں ہوسکتی ، نہ رجوع کی اجازت ہے نہ عقدِ جدید کافی ہے۔  قرآن وسنت کی روشنی میں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین ،تبع تابعین ، ائمہ اربعہ اور جمہورفقہائے کرام ؒکا متفقہ موقف ہے کہ ایک مجلس میں تینوں طلاقیں اکٹھی دینا اگر چہ خلافِ سنت اور ناجائز ہے تاہم اگر کسی نے اس طریقے سے تین طلاقیں دے دیں خواہ ایک ہی جملہ سے دے یا الگ الگ جملوں سے،بہر صورت تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے          فَإِن طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِن بَعدُ حَتَّی تَنکِحَ زَوجًا غَیرَہُ ۔(البقرہ:۲۳۰) (2) ۔     اس آیت کریمہ کے تحت امام جصاصؒ احکام القرآن میں لکھتے ہیں:   فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنتین ولم یفرق بین إیقاعہما فی طہر واحد أو فی أطھار فوجب الحکم بإیقاع الجمیع علی أی وجہ أوقعہ من مسنون أو غیر مسنون ومباح أو محظور …    فالکتاب والسنۃ واجماع السلف الصالحین توجب ایقاع الثلاث معاً، وان کان معصیۃً۔‘‘(جلد:۲،صفحہ:۸۵) (۳)      بخاری شریف کی ایک  حدیث پاک میں ہے:  ’’عن عائشۃؓ ان رجلاً طلق امرأتہٗ ثلاثاً فتزوّجت فطلّق فسئل النبیَّ صل اللّٰہ علیہ وسلم أتحل للاوّل؟  قال:’’لاحتیٰ یذوق عسیلتہا کما ذاق الاوّل‘‘(بخاری شریف،۲/۷۹۱)      اس حدیث مبارکہ میں مذکور اکٹھی تین طلاقوں کو آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے نافذ قرار دیا۔ چنانچہ اس حدیث کے تحت حضرات محدثین ؒ لکھتے ہیں:  ’’فالتمسّک بظاھرقولہٖ طلقھا ثلاثاً؛ فانہٗ ظاھر فی کونھا مجموعۃً ‘‘ (فتح الباری، شرح بخاری شریف،جلد۹،صفحہ۳۰۱، کذا عمدۃ القاری،جلد۹،صفحہ۵۳۸) (۴)      عمدۃ القاری شرح بخاری میں علامہ عینی ؒ لکھتے ہیں:  ’’ومذہب جماھیر العلماء من التابعین ومن بعدہم منھم: الأوزاعی والنخعی والثوری وأبو حنیفۃ وأصحابہ ومالک وأصحابہ ومالک وأصحابہ والشافعی وأصحابہ وأحمد وأصحابہ وإسحاق وأبو ثور وأبو عبید وآخرون کثیرون عل أن من طلق امرأتہ ثلاثا وقعن ولکنہ یأثم وقالوا: من خالف فیہ فہو شاذ مخالف لأھل السنۃ وإنما تعلق بہ أہل البدع ومن لا یلتفت إلیہ لشذوذہ عن الجماعۃ۔( عمدۃ القاری : ،جلد۹،صفحہ:۵۳۷) ترجمہ:  تابعین اور ان کے بعد کے جمہور علماء مثلا:امام اوزاعیؒ، امام نخعیؒ، امام ثوریؒ، امام ابوحنیفہؒ اور ان کے اصحاب، امام مالکؒ اور ان کے اصحاب، امام شافعیؒ اور ا ن کے اصحاب، امام احمدؒ بن حنبل اور ا ن کے اصحاب،امام اسحاقؒ، امام ابوثورؒ، امام ابوعبید، ودیگر فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ، سب اس بات کے قائل ہیں کہ جو کوئی اپنی عورت کو اکٹھی تین طلاق دیدے وہ تینوں نافذ ہوجائیں گی، اگرچہ ایسا کرنے والا گنہگار ہوگا، اوران حضرات نے یہ بھی کہا کہ جو اس موقف کی مخالفت کرے وہ اہل سنت کا مخالف ہے، اور اہل بدعت میں داخل ہے، اور اہل سنت کے مسلک کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس کی بات کا اعتبار نہیں۔  (5)…علامہ ابن الہمامؒ فتح القدیرمیں لکھتے ہیں: ’’وذہب جمہورالصحابۃ والتابعین ومن بعدہم من ائمّۃ المسلمین الیٰ انہ یقع ثلاثاً ……  وقد أثبتنا النقل عن أکثرھم صریحا بإیقاع الثلاث ولم یظہر لہم مخالف فماذا بعد الحق إلا الضلال۔(،جلد۳،صفحہ۲۵) ترجمہ: تمام صحابہ کرام ، تابعین اور ان کے بعد کے تمام ائمہ کا متفقہ مسلک ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی واقع ہوجاتی ہیں، اور ہم نے صریح دلائل کے ساتھ یہ بات ثابت بھی کردی ہے ، اور اس موقف کی کسی نے مخالفت نہیں کی ، لہٰذا حق واضح ہونے کے بعد جوبھی کوئی موقف اس کے خلاف ہو وہ گمراہی ہے۔ جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ، تابعین عظام،تبع تابعین ، ائمہ اربعہ اور جمہورفقہائے کرام کے اس متفقہ موقف کے خلاف یہ کہتے ہیں کہ ایک مجلس میں جتنی مرضی طلاقیں دیدو صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے وہ قرآن پاک، احادیثِ صحیحہ، آثارِصحابہؓ وتابعین، اور اقوال فقہاء، سب کی مخالفت کرتے ہیں،لہٰذا ان کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق