فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ایک بیوہ ، دو بیٹیاں، ایک بھائی میں وراثت کی تقسیم

فتویٰ نمبر 715202610343 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ایک بیوہ ، دو بیٹیاں، ایک بھائی میں وراثت کی تقسیم

سوال
ایک آدمی’’محمد سلیم ‘‘ فوت ہوگیا ہے اس نےتیس لاکھ روپے ترکہ چھوڑا ہے ، ورثاء میں ایک بیوہ’’آمنہ‘‘ ، دو بیٹیاں 1۔خالدہ 2۔ شازیہ اور ایک بھائی’’نبیل‘‘ حیات ہے ، کچھ بھائی پہلے سے فوت شدہ ہیں۔ ان کی اولاد ہے۔ متوفی کے والدین پہلے سے فوت شدہ ہیں۔
جواب
تقسیم ترکہ کی تفصیل درج ذیل ہے:  مسئلہ 24 ------مضروب: 2------ترکہ: 30,00,000------ (متوفی،محمد سلیم ) بیوہ  بیٹی  بیٹی بھائی  فوت شدہ تین بھائیوں کی اولاد آمنہ خالدہ شازیہ نبیل  متوفی کے بھتیجے ، بھتیجیاں 3 8 8 5 محروم برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفی ’’عبدالغفار‘‘ كا کل ترکہ چوبیس (24)حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ بیوہ  راحت بی بی بیٹی  تسبیحہ نور بیٹی  قائمہ نور بھائی نبیل 3,75,000 10,00,000 10,00,000 6,25,000 ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ متوفی کے بھتیجے ، بھتیجیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض