فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مدرسہ کی بنیاد توکل علی اللہ پر رکھنی چاہیے نہ کہ مالداروں کی امداد کے وعدوں پر۔

فتویٰ نمبر 715202610341 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مدرسہ کی بنیاد توکل علی اللہ پر رکھنی چاہیے نہ کہ مالداروں کی امداد کے وعدوں پر۔

سوال
ہمارا ایک مدرسہ بنانے کا ارادہ تھا ایک مالدار آدمی نے ہمیں ترغیب دی کہ آپ مدرسہ بناؤ میں خاطر خواہ امداد دوں گا، میرے والد نے دو کنال جگہ وقف کردی بنیادیں رکھ دیں۔ اب وہ مالدا ر شخص اپنی بات سے پھِر گیا ہے اب کیا ہم یہ جگہ بیچ سکتے ہیں یا دوسری جگہ سے تبادلہ کرسکتےہیں یا اس کو بیچ کر رقم کسی دوسرے مدرسہ یا مسجد میں دے سکتےہیں؟
جواب
وقف کے بعد شئی واقف کی ملکیت سے خارج ہوکر اللہ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے، لہٰذا جب یہ  جگہ مولوی صاحب مذکور کے والد صاحب نے وقف کردی تھی تو اس  وقف شدہ  جگہ کو واپس لینا ،اس کا کسی اور زمین کے ساتھ تبادلہ یا اس کو بیچنا خود واقف کیلئے بھی شرعاً جائز نہیں۔ فاذا تم ولزم لایملک ولا یملّک، ای لا یقبل التملیک لغیرہٖ بالبیع ونحوہٖ لاستحالۃ تملیک الخارج عن ملکہٖ (الخ) (الدرالمختار مع الشامیہ، جلد۶، صفحہ۵۴۰) وفی العالمگیریۃ:ولو کان الوقف مرسلاً لم یذکر فیہ شرط الاستبدال لم یکن لہ ان یبیعہا ویستبدل بہا وان کانت ارض الوقف سبخۃ لاینتفع بھا(جلد۲، صفحہ۴۰۱)  وفیہ ایضاً: ولیس للقیم ولایۃ الاستبدال الا ان ینص لہ ذالک (عالمگیریہ ،جلد۲، صفحہ۴۰۰)  اسی طرح وقف کی جہت کو تبدیل کرنا بھی شرعاً جائز نہیں۔  ولایجوز تغییر الوقف عن ھیئتہٖ فلایجعل الدار بستانا(الخ)(جلد۲، صفحہ۴۹۰) وفیہ ایضاً: انہم صرحوا بان مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ (شامیہ، جلد۶،صفحہ۶۸۳)   وفی الشامیۃ:ولایجوز لہ ان یفعل الا ما شرط وقت العقد … فلیس للواقف تغییرہ ولاتخصیصہ بعد تقررہٖ ولاسیّما بعد الحکم(شامیہ، جلد۶، صفحہ۷۰۴) وفی الدرالمختار: وقف ضیعۃ علی الفقراء وسلمھا للمتولی ثم قال لوصیّہٖ اعط من غلتھا فلاناً کذا وفلاناً کذا، لم یصح لخروجہ عن ملکہٖ بالتسجیل (درمختار،جلد۶، صفحہ۵۵۱)    اسی طرح وقف کی جہت کو تبدیل کرنا  یعنی واقف نے جس مقصد کیلئے وقف کیا اس کو بدل دینا مثلان: قبرستان یا جنازہ گاہ کی جگہ مدرسہ بنا دینا یا مدرسہ کی جگہ جناز گاہ بنا دینا بھی شرعاً جائز نہیں۔  چنانچہ ہندیہ میں ہے: ولایجوز تغییر الوقف عن ھیئتہٖ فلایجعل الدار بستانا(الخ)(جلد۲، صفحہ۴۹۰) خود واقف کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں  ، چنانچہ شامیہ میں ہے: لایجوز لہ ان یفعل الا ما شرط وقت العقد … فلیس للواقف تغییرہ ولاتخصیصہ بعد تقررہٖ ولاسیّما بعد الحکم(شامیہ، جلد۶، صفحہ۷۰۴) الحاصل : مذکورہ جگہ وقف ہوچکی ہے اس کو فروخت کرنا ، تبادلہ کرنا یا بغیر کسی شدید مجبوری کے اس کو بیچ کر دوسرے مدرسہ میں رقم دینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ اس کا باقاعدہ کوئی متولی ومنتظم اور کمیٹی مقرر کر کے مدرسہ کی بنیاد رکھ دی جائے۔  اس موقع پر یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ دینی مدارس کی بنیاد اصل میں توکل علی اللہ پر ہونی چاہیے، نہ کہ کسی فرد، مالدار یا وعدہ کرنے والے کے تعاون پر۔ اگر کوئی شخص تعاون کا وعدہ کرے تو یہ خوش آئند بات ہے، لیکن مدرسہ کا قیام اور اس کی بقا کسی شخصیت کے وعدے پر موقوف نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اسی سے امید وابستہ رکھنی چاہیے۔ بانیِ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ   دارالعلوم اور  دینی مدارس کی دینی ترقی کیلئے وضع کردہ   اصولوں کے مطابق مدارس کی دینی ترقی کا مدار اور روحانیت کی بقا کا راز ’’توکل علی اللہ‘‘ ہے۔  (سوانحِ قاسمی ج۲ ص۲۲۱) ہندوپاک کے مشہور ومعروف مفتیِ اعظم حضرت مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی ؒ سابق مفتیِ اعظم دارالعلوم دیوبند نے، دارالعلوم کراچی کے نام سے پاکستان میں ادارہ قائم کیا، آپ کی یہ کوشش رہی کہ قائم کردہ ادارہ اکابرِ دیوبند کے مزاج ومذاق کی تصویر ہو؛ چنانچہ حضرت  مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ  اپنے والد محترم حضرت اقدس حضرت مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی  رحمۃ اللہ علیہ (بانئ دارالعلوم کراچی)کے احوال میں لکھتے ہیں: حضرت والد صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’حضرت نانوتویؒ کی وصیت کے مطابق جب تک دینی مدارس توکل واستغناء اور للہیت پر کاربند رہیں گے، اُن کا کام انشاء اللہ بابرکت ہوگا اور اہلِ علم سے دنیاکو فائدہ پہنچے گا؛ لیکن اگر اہل علم بھی توکل اور استغناء سے محروم ہوجائیں گے اور اہلِ ثروت کی ثروت پر ان کی نگاہ جانے لگے گی، تو ان کی تعلیم وتبلیغ بھی انوار وبرکات سے خالی ہوجائے گی۔ (میرے والد میرے شیخ، صفحہ: ۱۶۶) لہٰذاسائل کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے مدرسہ کے قیام کا عمل جاری رکھیں، اخلاص کے ساتھ اسباب اختیار کریں، اہلِ خیر سے تعاون کی درخواست کریں، اور یہ یقین رکھیں کہ اگر یہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے تو وہی اس کے اسباب پیدا فرمائیں گے۔ کسی ایک شخص کے وعدہ سے پھر جانے کی وجہ سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف