امانت رکھوائی گئی رقم پر سال گزرنے پر نفع کا مطالبہ کرنا:
سوال
عرض یہ ہے کہ ناصر نے خالد کے پاس پانچ لاکھ روپے بطور امانت رکھوائے تھے۔ کچھ عرصہ بعد جب ناصر نے رقم واپس طلب کی تو تاخیر کی وجہ سے اصل رقم کے علاوہ اضافی رقم کا مطالبہ کیا۔ بعد میں باہمی رضامندی سے اصل رقم سے زیادہ رقم پر معاملہ طے ہوگیا۔
درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی فرمائیں:
کیا خالد پر صرف پانچ لاکھ روپے ادا کرنا لازم ہے یا تاخیر کی وجہ سے اضافی رقم بھی واجب ہوگی؟
اگر باہمی رضامندی سے اصل رقم سے زیادہ ادا کی جائے تو کیا یہ شرعاً جائز ہے یا سود کے حکم میں آئے گی؟
جزاکم اللہ خیراً۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں خالد کے ذمہ صرف وہی پانچ لاکھ روپے ادا کرنا لازم ہیں جو بطور امانت اس کے پاس رکھے گئے تھے۔ تاخیر کی بنا پر ناصر کا اصل رقم سے زائد رقم کا مطالبہ شرعاً درست نہیں، کیونکہ امین پر صرف امانت کی اصل رقم واپس کرنا لازم ہوتا ہے، اس سے زائد نہیں۔
لہٰذا اگر اضافی رقم صرف اس وجہ سے طلب کی جا رہی ہے کہ رقم کچھ عرصہ خالد کے پاس رہی، تو اس کا لینا اور دینا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ ربا (سود) کے حکم میں داخل ہے۔ باہمی رضامندی بھی ایسے اضافے کو جائز نہیں بناتی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
«كل قرض جر نفعًا فهو حرام»
(رد المحتار، کتاب البیوع، فصل فی القرض، 5/166، ط: سعید)
لہٰذا خالد پر صرف پانچ لاکھ روپے ادا کرنا لازم ہے، اس سے زائد رقم کی ادائیگی شرعاً واجب نہیں، اور محض تاخیر کی وجہ سے اضافی رقم لینا جائز نہیں۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: ودیعت (امانت رکھوانے اور رکھنے کے احکام)