بغیر اجازت دوسرے کا وائی فائی استعمال کرنے کا شرعی حکم
سوال
کسی دوسرے کا وائی فائی کسی تدبیر کے ذریعے خفیہ پاس ورڈ نکال کر اسکی اجازت کے بغیر اپنے فون پر استعمال کرناجائز ہے؟
اگر مالک کے نیٹ کی رفتار تیز ہو اور اسے فرق نہ پڑے تو پھر کیا کوئی گنجائش ہے؟
جواب
کسی کا ذاتی وائی فائی۔ اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرناشرعا جائز نہیں۔
لقولہٖ تعالیٰ:
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ } [النساء: 29]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
«لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ».
ترجمہ۔ کسی مسلمان کا مال اسکی دلی رضا مندی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے۔
(مشکوٰۃ شریف،جلد:۱،صفحہ:۲۵۵،کتاب البیوع، باب الغصب والعاریہ، الفصل الثانی)
لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے ، وائی تیز ہو یا نہ ہو بہر صورت مالک کی صریح اجازت ضروری ہے۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت