فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بغیر اجازت دوسرے کا وائی فائی استعمال کرنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 715202610339 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بغیر اجازت دوسرے کا وائی فائی استعمال کرنے کا شرعی حکم

سوال
کسی دوسرے کا وائی فائی کسی تدبیر کے ذریعے خفیہ پاس ورڈ نکال کر اسکی اجازت کے بغیر اپنے فون پر استعمال کرناجائز ہے؟ اگر مالک کے نیٹ کی رفتار تیز ہو اور اسے فرق نہ پڑے تو پھر کیا کوئی گنجائش ہے؟
جواب
کسی کا ذاتی  وائی فائی۔ اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرناشرعا جائز نہیں۔  لقولہٖ تعالیٰ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ } [النساء: 29] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :   «لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ».  ترجمہ۔ کسی مسلمان کا مال اسکی دلی رضا مندی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے۔ (مشکوٰۃ شریف،جلد:۱،صفحہ:۲۵۵،کتاب البیوع، باب الغصب والعاریہ، الفصل الثانی) لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے ، وائی تیز ہو یا نہ ہو بہر صورت مالک کی صریح اجازت ضروری ہے۔  فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت