فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

طلاق کے بعد بچوں کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟

فتویٰ نمبر 531202610336 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

طلاق کے بعد بچوں کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے(مختیار مائی کو) میرے شوہر(محمد ابوبکر) نے طلاق دے دی ہے۔ میری ایک بیٹی سات برس اور ایک بیٹا چار برس کا ہے۔ اس کی پرورش کا حق مجھے یا والد کو ہے؟
جواب
بچی نو سال تک اور بچہ سات سال تک ماں کی پرورش میں رہے گا بشرطیکہ وہ بچوں کے کسی غیر محرم سے نکاح نہ کرے۔اس دوران بچوں کا خرچہ شرعاً والد کے ذمہ لازم ہوگا۔ الدر المختار: (والحاضنة۔۔۔ أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب۔۔۔ وغيرهما(الام و الجدة) أحق بها حتى تشتهى وقدر بتسع وبه يفتى۔۔۔۔ وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي. (الدر مع الرد، كتاب الطلاق، باب الحضانة، 3/ 566 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت