لے پالک بچی کی ولدیت کا شرعی حکم کیا ہے؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ من مقر(راشد حسین) کی بیٹی پیدا ہوئی ہے، پیدائش سے قبل ہی بڑے بھائی نے کہا تھا کہ یہ بچہ ہم لیں گے اور ہم میاں بیوی نے بھی انہی کو دینا طے کیا تھا۔ پیدائش کے دو گھنٹے بعد وہ بچی لے گئے ۔ اب ولدیت میں بھائی چاہتے ہیں کہ میں اپنا نام دوں، آیا ایسا کرناشرعاً کیسا ہے؟
جواب
لے پالک بچی کے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات وغیرہ میں اس کے حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے، پالنے والے کا نام لکھنا بالکل جائز نہیں ہے، بلکہ نبی کریمﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو حقیقی والد کے غیر کی طرف منسوب کرے، اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔
عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام»
(صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم الحديث: 6766، 8/ 156 ط: دار طوق النجاة)
نیز ارشادِ خداوندی ہے:
{ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5]
ترجمہ: "ان کو انکے باپوں کے نام سے پکارو، یہی اللہ(تعالیٰ) کے ہاں زیادہ انصاف والا(معاملہ) ہے"
اور تفسیر روح المعانی میں ہے:
ويعلم من الآية أنه لا يجوز إنتساب الشخص إلى غير أبيه
(روح المعاني، الأحزاب: 5، 21/ 149 ط: إحياء التراث العربي)
ترجمہ: "اور آیت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ کسی شخص کو اس کے والد کے غیر کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے"
الحاصل ولدیت میں حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کا نام لکھنا حرام وگناہ ہے۔حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: کفالت و حوالہ