ہم جنس پرستی کیوں حرام ہے؟ اسلامی دلائل کا تحقیقی جائزہ
سوال
ہم جنس پرستی کو ہمارے مذہب نے حرام قرار دیا ہے۔ اس کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں دلائل مطلوب ہیں تاکہ غیر مسلموں کے آگے اپنا موقف بیان کرسکیں۔
جواب
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد و زن دونوں میں شہوت کا مادہ رکھا ہے اور اس کی تسکین کا فطری طریقہ نکاح کو مقرر کیا ہے۔ اس فطری طریقہ سے ہٹ کر مرد کا مرد سے یا عورت کا عورت سے شہوت کو پورا کرنا شرعاً حرام و گناہ کا کام ہے، چاہے دونوں رضامندی سے کریں یا جبر سے ۔اور قرآن کریم میں اس کی حرمت واضح طور پر موجود ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:
*سورہ العنکبوت - آیات 28-29*
`وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ`28
`أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ`29
ترجمہ: "اور ہم نے لوط(علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا، جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے فرمایاکہ تم ایسی بے حیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہاں والوں نے نہیں کیا، تم مَردوں سے بُرا فعل [بدفعلی]کرتے ہو(وہ بے حیائی کا کام یہی ہے) اور (اس کے علاوہ دوسری نامعقول حرکتیں بھی کرتے ہو،مثلا یہ کہ )تم ڈاکہ ڈالتے ہواور (غضب یہ ہے کہ ) اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو(اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت اور قبح عقلی ہے) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ ہم پر اللہ (تعالیٰ) کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں ) سچے ہو۔
(معارف القرآن ، مؤلفہ: مفتی شفیع صاحب ؒ،۶/ ۶۸۷، ۶۸۸ ط:ادارۃ المعارف،کراچی)
مفسرین کے مطابق اس ہم جنس پرستی جیسے کبیرہ گناہ و برائی میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم سب سے پہلے مبتلا ہونے والی تھی۔ اور اس قوم کی ہلاکت کے اسباب میں ایک بڑی وجہ یہی برائی ہے۔چنانچہ ابن کثیرؒ انہی آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
يقول تعالى مخبرا عن نبيه لوط عليه السلام، إنه أنكر على قومه سوء صنيعهم، وما كانوا يفعلونه من قبيح الأعمال، في إتيانهم الذكران من العالمين، ولم يسبقهم إلى هذه الفعلة أحد من بني آدم قبلهم. وكانوا مع هذا يكفرون بالله، ويكذبون رسوله
(تفسير ابن كثير، سورة العنكبوت:28، 29، 6 / 276 ط: دار طيبة)
ترجمہ: "اللہ تعالیٰ اپنے نبی (حضرت)لوط علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انھوں نے نکیر کی اپنی قوم کی بد اعمالیوں پر اور ان قبیح کاموں پر جو وہ کرتے تھے، (مثلاً )جہاں میں (موجود ) مَردوں کے پاس (بدفعلی کیلئے) آتے ہو، اور ان سے پہلے اس فعل(بَد) کی طرف بنی آدم میں سے کسی نے ان کے علاوہ سبقت نہیں کی اور وہ (قوم لوط) اس (بد فعلی) کے ساتھ اللہ (تعالیٰ) کا انکار کرتے تھے اور اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے تھے۔
نیز امام قرطبیؒ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان[أتأتون الفاحشة]کی تفسیر مَردوں سے بدفعلی کرناتحریر کی ہے۔
قوله تعالى: (أتأتون الفاحشة) يعني إتيان الذكور. (تفسير القرطبي، الأعراف: 80، 7/ 243ط:دار الكتب المصرية، قاهرة)
ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس (بدفعلی) کو "الفاحشة"قرار دیا ہے تاکہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ یہ بھی زنا ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بیشک یہ "فاحشة"[بے حیائی کی چیز] ہے۔
ذكرها الله باسم الفاحشة ليبين أنها زنى، كما قال الله تعالى:" ولا تقربوا الزنى إنه كان فاحشة "
(تفسير القرطبي، الأعراف: 80، 7/ 243ط:دار الكتب المصرية، قاهرة)
نیز فرماتے ہیں کہ علماء نے ہم جنس پرستی کی حرمت پر اتفاق کرنے کے بعد ایسے شخص کی سزا میں اختلاف کیا ہے۔امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ اسکو سنگسار کیا جائے گا۔۔۔امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اس پر زنا کی حد(سزا) جاری کی جائے گی۔۔۔
واختلف العلماء فيما يجب على من فعل ذلك بعد إجماعهم على تحريمه، فقال مالك: يرجم، أحصن أو لم يحصن. وكذلك يرجم المفعول به إن كان محتلما. وروي عنه أيضا: يرجم إن كان محصنا، ويحبس ويؤدب إن كان غير محصن. وهو مذهب عطاء والنخعي وابن المسيب وغيرهم. وقال أبو حنيفة: يعزر المحصن وغيره، وروي عن مالك. وقال الشافعي: يحد حد الزنى قياسا عليه.
(تفسير القرطبي، الأعراف: 80، 7/ 243ط:دار الكتب المصرية، قاهرة)
حضرت انسؓ آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جب میری امت چھ چیزوں کو حلال سمجھنے لگے گی تو ان پر تباہی نازل ہوگی۔ جب ان میں باہمی لعن طعن عام ہوجائے، مرد ریشمی لباس پہننے لگیں، گانے بجانے اور ناچنے والی عورتیں رکھنے لگیں،شرابیں پینے لگیں اور مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے جنسی تسکین پر کفایت کرنے لگیں۔
عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا استحلت أمتي ستا فعليهم الدمار: إذا ظهر فيهم التلاعن، وشربوا الخمور، ولبسوا الحرير، واتخذوا القيان، واكتفى الرجال بالرجال، والنساء بالنساء» (المعجم الأوسط،رقم الحدیث:1086، 2/ 18 ط:دارالحرمين، مصر)
حضرت ابو هريرهؓ فرماتے ہیں کہ جو آدمی کسی مرد یا عورت سے اس کے پیچھے کے راستے بدفعلی کرے تو پکی بات ہے کہ اس نے کفر اختیار کیا۔ عن مجاهد، قال: قال أبو هريرة: «من أتى النساء والرجال في أعجازهن، فقد كفر»
(السنة لأبي بكر بن الخلال، رقم الحدیث:1430، 4/ 163 ط: دار الراية، الرياض)
اور عقلاً بھی ہم جنس پرستی ممنوع ہے کیونکہ طبائع سلیمہ اس فعلِ بد سے نفرت کرتی ہیں کیونکہ یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے، حتی کہ اس فعلِ بد کی ابتداء بنی آدم کے اس دنیا میں آنے کے کئی ہزار برس بعد حضرت لوط علیہ السلام کی قوم سے ہوئی، اگر یہ بنی آدم کیلئے مفید ہوتی تو بنی آدم کے وجود میں آتے ہی اس کی ابتداء ہوجاتی۔نیز انسانی میں جو جنسی داعیہ رکھا گیا ہے، اس کا مقصد صرف لذت اور عشرت سامانی نہیں ہے، بلکہ اصل مقصود انسانیت کا بقاء اور نسلِ انسانی کی افزائش ہے۔اورہم جنس پرستی ایسی عادت ہے کہ اس سے نسلِ انسانی کی بیخ کنی ہوتی ہے؛کیونکہ دُبُرموضعِ فرث ہے، موضع حرث نہیں ،جبکہ قُبُل موضعِ حرث ہے؛کیونکہ توالد و تناسل اسی صورت میں ممکن ہے۔یہی وجہ ہے کہ جن ممالک میں اس کی اجازت ہے،وہاں کی حکومتیں شرحِ افزائش کیلئے متفکر ہیں۔ جیساکہ ناروے وغیرہ کی صورتحال ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مرد کا مرد اور عورت کا عورت سے جنسی تسکین حاصل کرنا عقلاً و شرعاً ممنوع و حرام ہے۔اور اسلام میں اس کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت