فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

نہر میں مچھلی پکڑنے کا ٹھیکہ لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

فتویٰ نمبر 531202610330 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

نہر میں مچھلی پکڑنے کا ٹھیکہ لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

سوال
ہمارے ہاں لوگ حکومت سے نہر میں موجود مچھلی شکار کرنے کے لیے ٹھیکہ پر لیتے ہیں،مثلا 5 ماہ کا ٹھیکہ ایک لاکھ روپے۔ تو کیا ایسا ٹھیکہ لینا شرعاً جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ شرعاً ناجائز ہے؛کیونکہ معلوم نہیں ہے کہ کس قدر مچھلیاں پکڑے گا، تو جہالت کی وجہ سے یہ معاملہ ناجائز ہے۔البتہ اس کے جواز کا یہ حیلہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ جتنے علاقہ میں شکار کرنا ہے، اس زمین کو ٹھیکہ پر حکومت سے لے لے، اور اس کے ٹھیکہ کی مد میں رقم ادا کردے۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63)  وذكر هنا الإجارة إذا وقعت على العين لا تصح، فلا تجوز على استئجار الآجام والحياض لصيد السمك أو رفع القصب وقطع الحطب أو لسقي أرضها أو لغنمه منها، وكذا إجارة المرعى. والحيلة في الكل أن يستأجر موضعا معلوما لعطن الماشية ويبيح الماء والمرعي، وإنما يحتاج إلى إباحة ماء البئر والعين إذا أتى الشرب على كل الماء وإلا فلا حاجة إلى الإذن إذا لم يضر بحريم البئر أو النهر. استأجر نهرا يابسا أو أرضا أو سطحا مدة معلومة ولم يقل شيئا صح وله أن يجري فيه الماء اهـ.  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: مزارعت