فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

یونین کونسل کے ذریعے تین طلاقیں دینے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 531202610322 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

یونین کونسل کے ذریعے تین طلاقیں دینے کا شرعی حکم

سوال
ایک آدمی (ناصر) نے اپنی بیوی (کنیزہ) کو یونین کونسل کے ذریعہ ایک طلاق دی، پھر دوسری طلاق آٹھ 8 دن کے بعد یونین کونسل کے ذریعہ دی۔ اور دوران عدت رجوع کرلیا۔ پھر ڈیڈھ سال بعد یونین کونسل کے ذریعہ تیسری طلاق دے دی۔ اب آیا کتنی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟ رجوع کی کیا صورت ہے؟
جواب
بر تقدیر صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں مسماۃ کنیزہ پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب نہ رجوع جائزہے، نہ عقدِ جدید کافی ہے اور نہ ہی دوبارہ وہ ناصرکے ساتھ آباد ہوسکتی ہے۔ لقوله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد۔۔۔ (البقرة:230)۔   لما في الهداية:   وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها   (كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة، 2/ 257 ط: دار احياء التراث العربي)   ولما في ردالمحتار:   قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة.....وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو   (كتاب الطلاق، 3/246 ط: دارالفکر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق
ٹیگز:
معاملات