فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

چھوڑ دیا ہے ، میری طرف سے فارغ ہے کہنے کا حکم

فتویٰ نمبر 531202610321 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

چھوڑ دیا ہے ، میری طرف سے فارغ ہے کہنے کا حکم

سوال
میری بیٹی کو اس کے شوہرنے چھوڑ دیا ہے، میں نے اپنے محلہ دار ان میں سے دو افراد کو اس کے پاس بھیجا کہ اس کا کیا ارادہ ہے۔ جب یہ اس کے پاس گئے تو اس نے کہا:"چھ مہینے ہوگئے ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا ہے، میں نے نہیں لانی، جہاں جانا ہے جائے، ميری طرف سے فارغ ہے، فتوی لے کر کسی اور سے نکاح کرلے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔" نوٹ:دونوں افراد(بطور گواہ ) اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ آیا اب کتنی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟ رجوع کی کیا صورت ہے؟ آگے کسی اور سے نکاح ہوسکتا ہے؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں گواہوں کے حلفیہ بیانات کی روشنی میں مسماۃ خالدہ(فرضی نام) پر دو طلاق بائن واقع ہوچکی ہیں، ایک طلاقِ رجعی نادر کے "میں نے اسے چھوڑ دیا ہے" کہنے سے اور ایک بائن "میری طرف سے فارغ ہے" سے ۔ اور رجعی کے بعد بائن دینے سے دو طلاق بائن ہوجاتی ہے۔  الحاصل  دو طلاق بائن واقع ہوچکی ہیں۔ اب رجوع بغیر نیا نکاح کئے نہیں ہوسکتا۔ عدت گزرنے کے بعد عاصمہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔  لما في رد المحتار: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال "رهاكردم" أي سرحتك يقع به الرجعي  (الرد مع الدر، كتاب الطلاق، 3/ 299 ط: دارالفكر)  ولما في الفتاوى الهندية:  (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية۔۔۔ ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم  (كتاب الطلاق، 1/ 374 ط:دارالفكر)  ولما في البحر الرائق:  (قوله: والبائن يلحق الصريح) كما إذا قال لها: أنت طالق ثم قال لها في العدة أنت بائن  (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق، 3/ 331 ط:دارالكتاب الإسلامي)  ولما في الفتاوى الهندية:  إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها  (کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة، 1/ 472 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق
ٹیگز:
معاملات