فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

عدالت کے خلع فیصلے کے بعد دوبارہ نکاح کی اجازت ہے یا نہیں؟

فتویٰ نمبر 522202610316 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

عدالت کے خلع فیصلے کے بعد دوبارہ نکاح کی اجازت ہے یا نہیں؟

سوال
ایک خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا اور عدالت نے بر بناء خلع فیصلہ کردیا،جبکہ شوہر کا پتہ غلط لکھوا دیا تھا، اور انہیں اس کیس کی خبر ہی نہیں ہوا۔اب میں اپنے کئے شرمندہ ہوں اور دوبارہ آباد ہونا چاہتی ہوں، اورشوہر بھی آباد کرنے پر رضامند ہے۔ آیا ہم دوبارہ آبادہوسکتے ہیں یا نہیں؟ نوٹ: میں مسمیٰ محمد اکمل اس بات کا حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی مسماۃ رابعہ نہ کبھی زبانی طلاق دی ہے اور نہ ہی تحریری۔
جواب
اگر فریقین دوبارہ آباد ہونا چاہیں تو احتیاطاً دوبارہ نکاح کرکے آباد ہوسکتے ہیں؛کیونکہ عدالت کے فیصلہ کی وجہ سے شبہہ پایا گیا، اسلئے دوبارہ نکاح کر لیا جائے۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح