فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

محلہ کی مسجد میں دوسری جماعت کا شرعی حکم کیا ہے؟

فتویٰ نمبر 522202610314 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

محلہ کی مسجد میں دوسری جماعت کا شرعی حکم کیا ہے؟

سوال
ہمارے محلے کی مسجد میں پنجوقتہ نمازباجماعت ادا کی جاتی ہے، اگر کبھی تین چار محلے دار جماعت سے رہ جائیں تو دوسری جماعت کرا سکتے ہیں؟
جواب
واضح رہے کہ محلہ کی مسجد میں ایک مرتبہ عمومی نماز باجماعت ہو جانے کے بعد جماعتِ ثانیہ کرانا مکروہ ہے؛ کیونکہ اس سے جماعت کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے ، نیز اس کی عام اجازت ہونے کی صورت میں مزید خرابیاں مثلاً تقلیل جماعت وغیرہ لازم آئے گی۔نیز ایسا کرنے میں لوگ اپنے کام کو پہلے اہم سمجھیں گے اور نماز کو بعدمیں، جوکہ مزاجِ شرع کے خلاف ہے۔نیز آپﷺ کی ایک مرتبہ انصار کے درمیان صلح کیلئے تشریف لے گئے، واپسی پر آئے تو جماعت ہوچکی تھی، تو آپﷺ نے مسجد کے بجائے گھر میں جماعت سے نماز ادا کی، تو معلوم ہوا کہ اصل سنت کی اتباع اسی میں ہے کہ مسجد میں دوسری جماعت نہ کرائی جائے۔نیز حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرامؓ سے(کبھی ) جماعت کی نماز رہ جاتی تو مسجد میں اکیلے اکیلے نماز پڑھتے تھے۔ لما في الدر المختار:  يكره ۔۔۔ تكرار الجماعة إلا في مسجد على طريق فلا بأس بذلك جوهرة  (الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب الآذان، فائدة التسليم بعد الأذان، 1/ 395 ط:دارالفكر)  البتہ اگر کبھی کسی عذر کی وجہ سےجماعت رہ جائے تو کسی دوسری مسجد کا رخ کیا جائے، یا گھر پر جماعت کروائیں، یاحدودِ مسجدِ شرعی سے باہر کسی حجرے یا درسگاہ میں باجماعت نماز ادا کریں۔۔۔ اگر ایسی جگہ نہ ہوتو پھر اکیلے اکیلے نماز ادا کریں۔  قال ابن عابدينؒ: (قوله: وتكرار الجماعة) لما روى عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبيه «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - خرج من بيته ليصلح بين الأنصار فرجع وقد صلى في المسجد بجماعة، فدخل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في منزل بعض أهله فجمع أهله فصلى بهم جماعة» ولو لم يكره تكرار الجماعة في المسجد لصلى فيه. وروي عن أنس " أن أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كانوا إذا فاتتهم الجماعة في المسجد صلوا في المسجد فرادى " ولأن التكرار يؤدي إلى تقليل الجماعة؛ لأن الناس إذا علموا أنهم تفوتهم الجماعة يتعجلون فتكثر وإلا تأخروا. اهـ. بدائع. وحينئذ فلو دخل جماعة المسجد بعد ما صلى أهله فيه فإنهم يصلون وحدانا، وهو ظاهر الرواية ظهيرية۔۔۔ الخ  (الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب الآذان، فائدة التسليم بعد الأذان، 1/ 395 ط:دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نماز