مسجد اور نئی عمارت کے درمیان گلی ہو تو اقتداء کا شرعی حکم
سوال
ہماری مسجد کی انتظامیہ نے مسجد کی نمازیوں کی تنگی کی وجہ سے توسیع کے ارادہ سے زمین خریدی ہے، حال یہ ہے کہ مسجد اور نئے پلاٹ کے درمیان میں گلی (شارع عام) ہے۔
آیا ہم گراؤنڈ فلور کے اوپر کی منزل میں پُل بنا کر دونوں کو ملا دیں تو نئی عمارت میں اقتداء کرنا درست ہوگا یا نہیں؟
نوٹ: عمارت کی ترتیب یوں ہے کہ قبلہ رُخ پہلے مسجد، پھر راستہ، پھر نئی عمارت ہے۔
جواب
واضح رہے کہ مقتدیوں کی نماز کی صحت کیلئے ضروری ہے کہ امام و مقتدیوں کا مکان ایک ہو، خواہ حقیقۃً یا حکماً، حقیقۃً تو اس طرح کہ مسجد مکان واحد کے حکم میں ہے۔ اور حکماً کی صورت یہ ہے کہ دونوں کا مکان حقیقۃً تو مختلف ہولیکن دونوں میں اتصال ہو۔
لہٰذا نئی خریدی گئی عمارت اور مسجد کو بذریعہ پُل ملادیا جائے اور بوقت ادائیگیِ نماز مسجد بھر جانے کے بعد پُل میں نمازی صف بنانے کے بعد نئی عمارت میں صفیں بنا کر اقتداء کریں گے تو اقتداء درست ہوجائے گی۔ لیکن اگر پُل میں نمازی کھڑے نہ ہوئے اور نئی عمارت میں کھڑے ہوگئےتو نئی عمارت میں موجود مقتدیوں کی اقتداء درست نہ ہوگی۔لما في بدائع الصنائع:
(ومنها) - اتحاد مكان الإمام والمأموم۔۔۔ لو كان بينهما طريق عام يمر فيه الناس أو نهر عظيم لا يصح الاقتداء؛ لأن ذلك يوجب اختلاف المكانين عرفا مع اختلافهما حقيقة فيمنع صحة الاقتداء۔۔۔ فإن كانت الصفوف متصلة على الطريق جاز الاقتداء؛ لأن اتصال الصفوف أخرجه من أن يكون ممر الناس فلم يبق طريقا بل صار مصلى في حق هذه الصلاة
(كتاب الصلاة ، فصل شرائط أركان الصلاة 1/ 145 ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: نماز