فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

والد کے بعد ترکہ کی تقسیم: بیوہ، ماں اور بیٹیوں کے حصے

فتویٰ نمبر 522202610310 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

والد کے بعد ترکہ کی تقسیم: بیوہ، ماں اور بیٹیوں کے حصے

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوگیا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ،۲ بیٹیاں، اور ۳ بھائی ہیں۔ مرحوم کے والد زندگی میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ مرحومہ کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ نیز کوئی بہن بھی نہیں ہے۔ ترکہ میں ایک کنال سات مرلے زمین ہے۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب
مسئلہ24/72 مضروب3 میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بیوہ   ---- والدہ ----بیٹی ----بیٹی ----بھائی ---بھائی ---بھائی  1---- 8 ----- 8 ---- 4 ---- 3 1----1---- 1---- 24---- 24----12----9 برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ازادائے قرض و وصیتِ جائزہ مرحوم كا کل ترکہ 72 حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ باقی زمین کو قیمت کے اعتبار سے تقسیم کریں گے، زمین کو تقسیم نہیں کریں گے؛کیونکہ قیمت کے اعتبار سے برابری ضروری ہے۔زمین کو حصوں کے اعتبار سے تقسیم کرنے سے بعض کو کم قیمت کا حصہ ملنے سے اسکی حق تلفی ہوگی۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض