والد کے بعد ترکہ کی تقسیم: بیوہ، ماں اور بیٹیوں کے حصے
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوگیا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ،۲ بیٹیاں، اور ۳ بھائی ہیں۔ مرحوم کے والد زندگی میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ مرحومہ کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ نیز کوئی بہن بھی نہیں ہے۔ ترکہ میں ایک کنال سات مرلے زمین ہے۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب
مسئلہ24/72 مضروب3
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ ---- والدہ ----بیٹی ----بیٹی ----بھائی ---بھائی ---بھائی
1---- 8 ----- 8 ---- 4 ---- 3
1----1---- 1---- 24---- 24----12----9
برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ازادائے قرض و وصیتِ جائزہ مرحوم كا کل ترکہ 72 حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
باقی زمین کو قیمت کے اعتبار سے تقسیم کریں گے، زمین کو تقسیم نہیں کریں گے؛کیونکہ قیمت کے اعتبار سے برابری ضروری ہے۔زمین کو حصوں کے اعتبار سے تقسیم کرنے سے بعض کو کم قیمت کا حصہ ملنے سے اسکی حق تلفی ہوگی۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض