فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

فقہ حنفی کے مطابق لاولد شخص کی وراثت

فتویٰ نمبر 522202610300 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

فقہ حنفی کے مطابق لاولد شخص کی وراثت

سوال
افتخار احمد فوت ہوچکے ہیں۔ ورثاء میں بیوہ(جس نے آگے دوسری شادی کرلی ہے)، والد، 3 بھائی، 1 بہن ہیں۔ والدہ کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ مرحوم لاولد تھے۔ ترکہ میں ایک مکان ہے۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔
جواب
مسئلہ4 افتخار احمد(متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بیوہ ۔والد ۔تین بھائی- ایک بہن  1--- 3------محروم  بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ افتخار احمد(مرحوم) کا کل ترکہ 4حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ایک حصہ بیوہ کواور باقی تین حصے متوفی کے والد کو ملیں گے ، والد کے موجود ہونے کی وجہ سے متوفی کےبہن بھائی شرعاً اس کے ترکہ کے حقدار نہیں۔  لما في رد المحتار:  وبنو الأعيان وبنو العلات كلهم يسقطون بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق  (الرد مع الدر، كتاب الفرائض، 6/ 782 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض