اکلوتی بیٹی، والدہ، بہن بھائی میں سونا اور جائیداد کی شرعی تقسیم
سوال
من مقرہ مسماۃ عائشہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں۔ میرے والدپہلے فوت ہوئے، پھر والدہ فوت ہوگئیں۔ والدہ مسماۃعابدہ ندیم کے ورثاء میں والدہ(رانی ممتاز)، ایک بیٹی(عائشہ)، تین بہنیں(فہمیدہ، خالدہ، راشدہ) اور ایک بھائی(جاوید) زندہ ہیں۔ والد، بھائی(خالد) اور ایک بہن(سعیدہ بانو) کا مرحومہ کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔مرحومہ(عابدہ ندیم) کی جائیداد میں سونا(جو اس نے اپنے بھائی کے پاس بطور امانت رکھا تھا)اورایک شوروم کا چوتھا حصہ ہے(بقیہ دو حصے جاویداور ایک حصہ راشدہ کا ہے)۔مرحومہ کو کل کرایہ ۱،۶۰،۰۰۰ روپے میں چوتھا حصہ ۴۰،۰۰۰ روپے ملتے تھے، جو بھائی(جاوید) نے جنوری میں مرحومہ کےانتقال کے بعد ادا کرنا بند کردیا ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ تمہارا(عائشہ) کا حصہ کرایہ اور سونے میں بہت کم بنے گا۔بقیہ ہمارا حصہ ہے۔
آپ سے رہنمائی درکار ہے کہ ہر ایک وارث کا شرعی حصہ بتادیں۔
جواب
مسئلہ6/30 ۔مضروب5۔۔ عابدہ ندیم(متوفیہ)
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
والدہ ۔بیٹی ۔بہن ۔بہن ۔بہن ۔بھائی ۔بھائی ۔بہن
1۔ 3۔ 2۔ محروم ۔محروم
5۔ 15۔ 2 ۔2 ۔2 ۔4
برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ عابده نديم كا کل ترکہ30 حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔مرحومہ کی کل جائیداد میں سے آدھا حصہ عائشہ کو ملے گا، بقیہ والدہ، ایک بھائی اور تین بہنوں کو حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگی۔جاوید وغیرہ کی بات شرعاً درست نہیں۔
خالد(بھائی) اور سعید بانو(بہن) چونکہ مرحومہ کی زندگی میں وفات پاگئے تھے، اس لئےوہ اور انكے ورثاء مرحومہ کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔جیساکہ مبسوط للسرخسي میں ہے:
لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض