فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

اکلوتی بیٹی، والدہ، بہن بھائی میں سونا اور جائیداد کی شرعی تقسیم

فتویٰ نمبر 522202610298 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

اکلوتی بیٹی، والدہ، بہن بھائی میں سونا اور جائیداد کی شرعی تقسیم

سوال
من مقرہ مسماۃ عائشہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں۔ میرے والدپہلے فوت ہوئے، پھر والدہ فوت ہوگئیں۔ والدہ مسماۃعابدہ ندیم کے ورثاء میں والدہ(رانی ممتاز)، ایک بیٹی(عائشہ)، تین بہنیں(فہمیدہ، خالدہ، راشدہ) اور ایک بھائی(جاوید) زندہ ہیں۔ والد، بھائی(خالد) اور ایک بہن(سعیدہ بانو) کا مرحومہ کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔مرحومہ(عابدہ ندیم) کی جائیداد میں سونا(جو اس نے اپنے بھائی کے پاس بطور امانت رکھا تھا)اورایک شوروم کا چوتھا حصہ ہے(بقیہ دو حصے جاویداور ایک حصہ راشدہ کا ہے)۔مرحومہ کو کل کرایہ ۱،۶۰،۰۰۰ روپے میں چوتھا حصہ ۴۰،۰۰۰ روپے ملتے تھے، جو بھائی(جاوید) نے جنوری میں مرحومہ کےانتقال کے بعد ادا کرنا بند کردیا ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ تمہارا(عائشہ) کا حصہ کرایہ اور سونے میں بہت کم بنے گا۔بقیہ ہمارا حصہ ہے۔ آپ سے رہنمائی درکار ہے کہ ہر ایک وارث کا شرعی حصہ بتادیں۔
جواب
مسئلہ6/30 ۔مضروب5۔۔ عابدہ ندیم(متوفیہ) میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ والدہ ۔بیٹی ۔بہن ۔بہن ۔بہن ۔بھائی ۔بھائی ۔بہن 1۔ 3۔ 2۔ محروم ۔محروم  5۔ 15۔ 2 ۔2 ۔2 ۔4 برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد از ادائے قرض و وصیتِ جائزہ عابده نديم كا کل ترکہ30 حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔مرحومہ کی کل جائیداد میں سے آدھا حصہ عائشہ کو ملے گا، بقیہ والدہ، ایک بھائی اور تین بہنوں کو حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگی۔جاوید وغیرہ کی بات شرعاً درست نہیں۔ خالد(بھائی) اور سعید بانو(بہن) چونکہ مرحومہ کی زندگی میں وفات پاگئے تھے، اس لئےوہ اور انكے ورثاء مرحومہ کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔جیساکہ مبسوط للسرخسي میں ہے:  لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض