فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

وراثتی/مشترکہ مکان کی تعمیر میں ایک فریق کی اجازت سے رقم خرچ کرنے کا حکم

فتویٰ نمبر 428202610291 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

وراثتی/مشترکہ مکان کی تعمیر میں ایک فریق کی اجازت سے رقم خرچ کرنے کا حکم

سوال
میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوچکا ہے، ورثاء میں شوہر، سات بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں۔۔۔۔ مرحومہ کے والدین کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ ترکہ میں ایک مکان تھا، جس کو فروخت کرنے سے 16،75،000 روپے حاصل ہوئے ہیں، نیز مذکورہ مکان میں تعمیرات کی مد میں ایک بیٹے مسمی عامر علی نے 1،50،000 روپےلگائے تھے اور رقم لگاتے وقت والدہ سے یہ طے ہوا تھا کہ آج لگا لو، کل کو جب مکان فروخت ہوگا تو اپنے پیسے وصول کرلینا اور اس بات پر والد، چچا، چچی اور ایک پڑوسی مسمی منظور حسین گواہ ہیں۔ آیا ڈیڈھ لاکھ کا کیا حکم ہے؟ نیز ہر وارث کا حصہ شرعی بتلا دیں۔ جزاكم الله خيراً
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر رقم خرچ کرنے والے بیٹے کے  پاس اپنی اس بات پر شرعی گواہ  موجود ہیں تو اولاً کل ترکہ سے 1،50،000 روپے وصول کئے جائیں گے ، اس کے بعد ترکہ درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم ہوگا۔ مسئلہ4/ 60 مضروب15              میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ شوہر ۔بیٹا ۔بیٹا۔ بیٹا ۔بیٹا ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی۔ بیٹی ۔بیٹی 15۔  6۔  6 ۔  6۔   6۔    3۔    3 ۔   3 ۔   3 ۔     3۔    3۔     3 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفیہ کا کل ترکہ 60 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض