کیا فلاحی منصوبوں پر زکوٰۃ خرچ کی جاسکتی ہے؟
سوال
ہمارے محلہ میں ایک پانی کا پلانٹ ہے، اور ساتھ ڈسپنسری بنی ہوئی ہے، آیا اس میں زکوۃ کی رقم لگائی جاسکتی ہے یا نہیں؟ نیز زندوں اور مردوں کے ایصال ثواب کی رقم یہاں لگائی جاسکتی ہے؟ایسے ڈسپنسری میں صرف ادویات کی خریداری میں زکوۃ کی رقم لگا سکتے ہیں؟جزاكم الله خيرا
جواب
واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کیلئے کسی مستحق کو مالک بنانا ضروری ہے، اس کے بغیر زکوۃ ادا نہیں ہوتی، جبکہ واٹر پلانٹ اور ڈسپنسری میں یہ بات نہیں پائی جاتی ، اس لئے واٹر پلانٹ اور ڈسپنسری پر زکوۃ کی رقم لگانا جائز نہیں ہے۔
الدر المختار:
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد۔۔۔ الخ
قال ابن عابدینؒ: (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه
(الدر مع الرد، کتاب الزکاة، 2/ 344ط:دارالفكر)
البتہ صدقاتِ نافلہ، عطیات کی مد سے رقم لگائی جاسکتی ہے، اسی طرح کسی کے ایصالِ ثواب کیلئے زکوۃ کے علاوہ رقم لگائی جاسکتی ہے۔
البتہ ڈسپنسری کی صرف ادویات زکوۃ کی رقم سے خریدی جاسکتی ہیں بشرطیکہ وہ صرف مستحقین کو دی جائیں اور مفت دی جائیں۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات