فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

حقیقی بھائی کی موجودگی میں پدری بہن بھائیوں کی وراثت: حصہ یا محرومی؟

فتویٰ نمبر 330202610281 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

حقیقی بھائی کی موجودگی میں پدری بہن بھائیوں کی وراثت: حصہ یا محرومی؟

سوال
ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ، ایک حقیقی بھائی، تین حقیقی بہنیں اورایک علاتی بہن ہیں۔ ان کے علاوہ دو علاتی بھائی اور دو علاتی بہنوں کا پہلے انتقال ہوچکا ہے۔مرحوم کے والد اس کی زندگی میں ہی انتقال کرگئے تھے۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ12/60 ۔۔۔۔مضروب5 ۔۔(متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بیوہ ۔والدہ ۔حقیقی بھائی ۔حقیقی بہن ۔حقیقی بہن ۔حقیقی بہن ۔پدری بہن بھائی  3 ۔2 ۔7۔ محروم  15۔ 10۔ 14 ۔7 ۔7 ۔7  بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفی  کا کل ترکہ 60حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔  واضح رہے کہ حقیقی بھائی کی موجودگی میں باپ شریک بہن بھائی ترکہ سے شرعاً محروم ہوتے ہیں، جیساکہ سراجی میں ہے:  ويسقط بنو العلّات أيضا بالأخ لأب وأم۔۔۔الخ  (باب الأحوال، فصل في النساء، أحوال الأخت لأب ، ص43 ط:بشرى مجلد)  لہٰذا اگر مرحوم کے تمام باپ شریک بہن بھائی زندہ ہوتے تب بھی وہ مرحوم کے ترکہ سے حقیقی بھائی کی وجہ سے شرعاً محروم رہتے ۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض