فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بیعِ عینہ: اپنا بیچا ہوا موبائل کم قیمت پر دوبارہ خریدنا جائز ہے؟

فتویٰ نمبر 330202610280 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بیعِ عینہ: اپنا بیچا ہوا موبائل کم قیمت پر دوبارہ خریدنا جائز ہے؟

سوال
میں اپنی کھاتہ دار پارٹی یا فرد کو ادھار کوئی موبائل دیتا ہوں، جس کی قیمت مثلاً 30000 روپے ہے، وہ موبائل لے جاتا ہے اور اسے قسطوں پر کسی تیسرے فرد کو دے دیتا ہے، اب وہ تیسرا فرد کہتا ہے کہ میں نے یہ موبائل بیچنا ہے، پھر یہ کہتا ہے کہ میں نے یہ موبائل آپ کو قسطوں پر دیا ہے، لہٰذا میں دوبارہ نقد کم قیمت پر اس کو نہیں لے سکتا ، ہاں البتہ ایک دکاندار بتاتا ہوں، جو یہ لے لے گا، یوں وہ گاہک کو میرے پاس بھیج دیتاہے، موبائل ڈبہ بند ہوتا ہے، میں اس سے 29000 يا 28000 میں لے لیتا ہوں۔ آیا میرا کم قیمت پر لینا جائز ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ دکاندار اس طرح روزانہ ایک یا دو گاہک بھیجتا ہے، کیا میں اپنی مرضی کے ریٹ پر لے سکتا ہوں؟جبکہ گاہک کو زیادہ نقصان بھی نہ ہو۔ہر موبائل جو واپس آتا ہے، ہر بار گاہک مختلف ہوتا ہے۔ نیز اس موبائل کے خریدنے میں سارا پیسہ میرا ہوگا، میری پارٹی کا اس میں کوئی کمیشن نہیں ہوگا۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل ہی کی بیچی ہوئی چیز دوبارہ سائل کے پاس کم قیمت پر لوٹ آئی، جو کہ بیع عینہ کے مشابہ ہونے کی وجہ سے  مکروہ  ہے۔ لما في رد المحتار:  ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة اهـ، وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود.  (كتاب الكفالة، مطلب بيع العينة، 5/ 326 ط:دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاش و اموال