فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بیوی کے سامنے تین طلاق دینے اور بعد میں انکار کرنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 326202610274 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بیوی کے سامنے تین طلاق دینے اور بعد میں انکار کرنے کا شرعی حکم

سوال
خاوند بیوی کے درمیان طلاق کا تنازعہ ہے فریقین کے درج ذیل بیانات کو ملاحظہ فرماکر واضح فرمائیں کہ کتنی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟ خاوند کا بیان: میں جمعہ سے گزشتہ رات ڈیوٹی کرنے کی وجہ سے بالکل سو نہیں سکا۔پھر دن گیارہ بجے گھر آیا اور نشتہ کیا، جمعہ پڑھ کرسوگیا، مغرب کو بیدار ہوا، تو والدہ نے بتایا کہ آپ نے اپنی بیوی کوطلاق دے دی ہے۔جبکہ میں ایسا کچھ نہیں کہا۔ بیوی کا بیان: دو بجے سوئے تو میں نے ان کو تقریباً ساڑھے تین بجے اٹھایاکہ پھر آپ رات کو سو نہیں سکو گے تو انھوں نے کہا: "میں نے تمہیں طلاق دی" میں نے کہا کہ "آپ کیا کہہ رہے ہیں تو دوبارہ انھوں نے کہا: میں نے تمہیں طلاق دی۔ میں پھر کہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تو تیسری بار انھوں نے پھر کہا: میں نے تمہیں طلاق دی۔میں نے تین بار آپ کو کہہ دیا ہے، اب نکل جاو یہاں سے۔ میں روتی ہوئی امی کے پاس چلی گئی ، اور ان کو ساری بات بتا دی۔
جواب
صورت مسئولہ میں بیوی نے چونکہ تین طلاق کے الفاظ خاوند  کی زبان سے اپنے کانوں سے سن لئے ہیں، اس لئے مسماۃ مذکوریہ  کیلئے اس خاوند کے گھر آباد ہونا حرام ہے،چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے: والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك  (كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح، 1/ 354 ط: دارالفكر)  خاوند کا مذکورہ بیان ناقابلِ فہم ہے، بیوی نے تین مرتبہ اسے متنبہ بھی کیا، پھر بھی جواب میں میں نے تمہیں طلاق دی کے الفاظ دہراتا رہا، اور آخر میں یہ بھی کہا "میں نے تین بار کہہ دیا ، اب نکل جا یہاں سے" اس تمام گفتگو کو نیند قرار دینا سمجھ سے بالا تر ہے، لہٰذا فوراً خاوند سے علیحدہ ہوجائیں۔۔۔۔۔اس کے ساتھ دوبارہ آباد ہونا جائز نہیں اور نہ ہی آگے نکاح کرسکتی ہیں؛تاوقتیکہ شوہر ان طلاقوں کا اقرار کرلے یا مزید طلاق دے دے یا خلع کے ذریعے علیحدگی ہوجائے۔۔۔ اگر شوہر نہ طلاق کا اقرار کرے اور نہ ہی طلاق یا خلع پر راضی ہو تو عورت عدالت سے علیحدگی کی ڈگری لے لے،اس کے بغیر آگے نکاح کرنے جائز نہیں ہے۔ ۔ لما في الفتاوى الهندية: والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك  (كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح، 1/ 354 ط: دارالفكر)  باقی خاوند  کو بیدار کرنے پر اس کا طلاق دینا، پھر بیوی کا اس کو متنبہ کرنا اور تیسری بار میں خاوند  کا کہناکہ "میں نے تین بار آپ کوکہہ دیا ہے، اب نکل جاؤیہاں سے"یہ سب باتین دلالت کرتی ہیں کہ وہ  بیدارتھا، نیند میں نہیں تھا۔لہٰذا فریقین کا باہم  آباد ہونا جائز نہیں ہے۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق