فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

لے پالک بچی کو غیر حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 324202610273 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

لے پالک بچی کو غیر حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنے کا شرعی حکم

سوال
من مقر کی بیٹی پیدا ہوئی ہے، پیدائش سے قبل ہی بڑے بھائی نے کہا تھا کہ یہ بچہ ہم لیں گے اور ہم میاں بیوی نے بھی انہی کو دینا طے کیا تھا۔ پیدائش کے دو گھنٹے بعد وہ بچی لے گئے ۔ اب ولدیت میں بھائی چاہتے ہیں کہ میں اپنا نام دوں، آیا ایسا کرناشرعاً کیسا ہے؟
جواب
چلے پالک بچی کے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات وغیرہ میں اس کے حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے، پالنے والے کا نام لکھنا بالکل جائز نہیں ہے۔ چنانچہ  ارشادِ خداوندی ہے:  {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5] ترجمہ: "ان کو انکے باپوں کے نام سے پکارو، یہی اللہ(تعالیٰ) کے ہاں زیادہ انصاف والا(معاملہ) ہے"  اور تفسیر روح المعانی میں ہے:  ويعلم من الآية أنه لا يجوز إنتساب الشخص إلى غير أبيه  (روح المعاني، الأحزاب: 5، 21/ 149 ط: إحياء التراث العربي)  ترجمہ: "اور آیت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ کسی شخص کو اس کے والد کے غیر کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے"  نیز  نبی کریمﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو حقیقی والد کے غیر کی طرف منسوب کرے، اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔  عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام»  (صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم الحديث: 6766، 8/ 156 ط: دار طوق النجاة) الحاصل ولدیت میں حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کا نام لکھنا حرام وگناہ ہے۔حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت