فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

والدہ، بھائیوں اور بہن کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ

فتویٰ نمبر 324202610269 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

والدہ، بھائیوں اور بہن کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بھائی کا انتقال ہوچکا ہے۔ ورثاء میں والدہ چار بھائی اور ایک بہن زندہ ہیں، ایک بہن کا انتقال مرحوم سے پہلے ہوگیا تھا۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب
مسئلہ6/54 مضروب9 (متوفی) میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ والدہ۔ بہن ۔بھائی ۔بھائی ۔بھائی ۔بھائی ۔فوت شدہ بہن  1۔ 5۔ محروم 9 ۔5۔ 10۔ 10 ۔10۔ 10 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد شکیل(مرحوم) کاکل ترکہ 54 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔سبیہ بی بی اور اس کی اولاد مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے؛کیونکہ اس کا انتقال مرحوم سے پہلے ہوگیا تھا۔ لما في رد المحتار:  (قوله إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث  (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض