فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مسجد کی اوپری منزل کو مدرسہ بنانے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 324202610268 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مسجد کی اوپری منزل کو مدرسہ بنانے کا شرعی حکم

سوال
ہم نئی مسجد بنا رہے ہیں، اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم مسجد کی نچلی منزل میں تو مسجد کی نیت کریں اور اوپر کی منزل میں بنات کے مدرسہ کی نیت کرلیں۔ آیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ مسجد میں اصل یہی ہے کہ یہ تحت الثری تا عنان السماء ہوتی ہے، لہٰذا اوپر کی منزل میں بھی مسجد کی ہی نیت کی جائے اور بنات کا مدرسہ الگ بنایا جائے۔ لما في الدر المختار:  كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء  قال ابن عابدينؒ: (قوله إلى عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري عن الإسبيجابي  (الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، فروع اشتمال الصلاة على الصماء۔۔۔، 1/ 656ط:دارالفكر)  ولما في تبيين الحقائق:  لأن سطح المسجد مسجد إلى عنان السماء  (التبيين مع مع حاشية الشلبي، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، فصل ويكره استقبال القبلة بالفرج في الخلاء، 1/ 168 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)  ولما في فتح القدير:  لأن سطح المسجد له حكمه إلى عنان السماء  (كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، فصل ويكره استقبال القبلة بالفرج في الخلاء، 1/ 420ط:دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: حدود