فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بازاری جرابوں پر مسح کے جواز کا تحقیقی جائزہ

فتویٰ نمبر 324202610267 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بازاری جرابوں پر مسح کے جواز کا تحقیقی جائزہ

سوال
بازارمیں آج کل ایک موٹی جرابیں بک رہی ہیں، جس کی قیمت تقریباً تین ہزار روپے ہے، بعض علماء کرام اس پر مسح کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔آیا اس پر مسح جائز ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ فقہاء کرامؒ کے کلام میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جورابوں پر مسح جائز ہونے کیلئے درج ذیل تین شرائط موجود ہوں: ۱۔۔۔ اتنی موٹی ہوں کہ بغیر باندھے پاؤں پر کھڑی رہیں۔  ۲۔۔۔ پانی وغیرہ ڈالا جائے تو اندر پانی سرایت نہ کرے۔  ۳۔۔۔ بغیر جوتے پہنے صرف یہی جورابیں پہن کر تین میل تک پیدل چلنے سے نہ پھٹیں۔ جن جورابوں میں مذکورہ بالا شرائط موجود ہوں گی، تو ان پر مسح کرنا جائز ہوگا، اگر ایک بھی شرط مفقود ہوگی تو مسح جائز نہ ہوگا۔۔۔ دی گئی جورابوں کا مشاہدہ کیا گیا تو اس میں صرف ایک شرط پائی جاتی ہے کہ پانی انڈیلیں تو اندر سرایت نہ کرے، باقی شرائط مفقود ہیں، لہٰذا ان جورابوں پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔  لما في المبسوط للسرخسيؒ:  والثخين من الجورب أن يستمسك على الساق من غير أن يشده بشيء  (كتاب الصلاة، المسح على الجوربين، 1/ 102 ط:دارالفكر)  ولما في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:  ولو كانا" أي الخفان متخذين "من شيء ثخين غير الجلد" كلبد وجوخ وكرباس يستمسك على الساق من غير شد لا يشف الماء وهو قولهما وإليه رجع الإمام وعليه الفتوى  (كتاب الطهارة، باب المسح على الخفين، ص: 129، ط: دار الكتب العلمية)  ولما في الدر المختار:  (أو جوربيه) ولو من غزل أو شعر (الثخينين) بحيث يمشي فرسخا ويثبت على الساق ولا يرى ما تحته ولا يشف  (الدر مع الرد، كتاب الطهارة، باب المسح على الخفين، شروط المسح على الخفين، 1/ 269 ط:دارالفكر)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: ایمان و عقائد