فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

باہم رضامندی سے وراثت کی تقسیم کے کئی سال بعد ایک بہن کادوبارہ تقسیم کا مطالبہ

فتویٰ نمبر 324202610266 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

باہم رضامندی سے وراثت کی تقسیم کے کئی سال بعد ایک بہن کادوبارہ تقسیم کا مطالبہ

سوال
ہم بہن بھائیوں نے تقریباً 2011؁ ء میں والد صاحب کی وراثت تقسیم کردی، اس طرح کہ ترکہ میں ایک مکان اور ایک پلاٹ تھا۔والدہ نے مکان تین بیٹوں کو دیا اور پلاٹ تین بیٹیوں اور چوتھا حصہ بیٹوں کو دے دیا۔ اب مکان کی موجودہ قیمت تقریباً 70 لاکھ اور پلاٹ کی تقریباً ایک کروڑ سے زائد ہے۔ اب تقریباً دس سال بعد ایک بہن کہتی ہے کہ آپ نے شرعی تقسیم نہیں کی، لہٰذا مجھے میرا شرعی حصہ بتائیں۔جبکہ اس نے اپنے حصہ کے پلاٹ پر بیچنے کیلئے بینر بھی لگایا تھا اور ہم سب ورثاء اس تقسیم پر راضی ہیں۔ جس کے بیانِ حلفی ساتھ منسلک ہیں۔اس مسئلہ کا شرعی حل بتا دیں۔
جواب
واضح رہےکہ جب سب ورثاء نے باہمی رضامندی و خوشی سے ایک بار وراثت کی تقسیم کردی تو اب عرصہ گزرنے کے بعد کسی وارث کو اس پر اعتراض کا حق حاصل نہیں۔ لما في مجلة الأحكام العدلية:  إذا تم الصلح فليس لواحد من الطرفين فقط الرجوع  (الكتاب الثاني عشر في الصلح والإبراء، الباب الرابع في بيان الصلح والإبراء، الفصل الأول في بيان المسائل المتعلقة بأحكام الصلح، رقم المادة:1556، ص: 303 ط:نور محمد)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض