فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

نصاب کے مالک مقروض شخص کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے یا نہیں؟

فتویٰ نمبر 324202610264 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

نصاب کے مالک مقروض شخص کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے یا نہیں؟

سوال
من مقرق ایک مسجد میں موذن کا فریضہ سرانجام دے رہا ہوں۔ مجھ پر 50 ہزار روپے سے زیادہ قرض ہے،جبکہ میری ملکیت میں نہ سونا ہے، نہ چاندی ، اور نہ ہی کوئی سامان تجارت وغیرہ۔البتہ ملتان میں اپنا ذاتی مکان تقریباً اڑھائی مرلے کا ہے، اور ایک دوسرا مکان تقریباً اڑھائی لاکھ کی مالیت کا رحیم یار خان آبائی گاؤں میں ہے، جس سے ماہانہ 2000روپے کرایہ آتا ہے، جو میری والدہ صاحبہ لیتی ہیں۔کبھی کرایہ دار مکان چھوڑ دیتے ہیں، تو کئی کئی ماہ خالی رہ جاتا ہے۔ نیز چھ کنال وراثتی زمین ملی، جس کا سالانہ ٹھیکہ 50 ہزار روپے آتا ہے۔اور میری اپنی تنخواہ 15000روپے ہے۔جس سے میرے گھر کا گزر بسر نہیں ہوسکتا اس لیے میں مقروض ہوجاتا ہوں۔ آیا میں قرض اتارنے کیلئے زکوۃ لے سکتا ہوں؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں سائل نے جو صورتحال بیان کی ہے  تنگدستی آمدنی معاش کیلئے کافی نہ ہونا وغیرہ کی وجہ سے مستحق زکوٰۃ ہے۔اس لے اس کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی،  لیکن صرف قرض کی بنیاد پر(کہ  میں مقروض ہوں) زکوٰۃ لیناجائز  نہیں ہے، كيونکہ قرض کی ادائیگی کیلئے اس کے پاس  انتظام ہے ، کرایہ کا مکان موجود ہے جو اس کی ضرورت سے زائد ہے لہذٰا یہ ضرورت سے زائد سامان میں شمار ہوگا، اور اس کی قیمتِ فروخت چونکہ 52.5 سے زیادہ ہے(جو کہ اس وقت قربانی کے نصاب سے کہیں زیادہ ہے) لہٰذا سائل پراس کی وجہ سے  قربانی لازم ہے، جیساکہ فتاوی رحیمیہ میں ہے:  دوسرا مکان کرایہ پر دے یا نہ دے، قربانی وصدقۂ فطر کے سلسلہ میں تکمیل نصاب میں اس کی قیمت کااعتبار ہے کیونکہ یہ اس کی ضرورت سے زیادہ ہے۔(فتاوی رحیمیہ ، کتاب الاضحیہ، 10\ 31 ط:دارالاشاعت)  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات